مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران نے اسرائیل کے جنوبی علاقے میں واقع قصبے دیمونا اور اس کے قریبی علاقوں پر بیلسٹک میزائل حملے کیے، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔ یہ حملے اسرائیلی جوہری تنصیب کے قریب کیے گئے، تاہم عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے مطابق اس تنصیب کو کسی نقصان یا تابکاری کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی۔
بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے کے نتیجے میں 6 اسرائیلی شہری ہلاک جبکہ 150 سے زائد زخمی ہوئے۔ اسرائیلی قصبے عراد میں بمباری سے 20 اسرائیلی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔ ایران نے اسرائیلی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ویڈیوز بھی جاری کردیں۔
اسرائیلی ریسکیو حکام کے مطابق دیمونا میں ہونے والے حملے کے بعد کم از کم 40 افراد کو طبی امداد دی گئی، جن میں 37 معمولی زخمی تھے جبکہ ایک 10 سالہ بچے کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔ اسرائیلی قصبہ عراد میں ایک اور میزائل حملے کے نتیجے میں 68 افراد متاثر ہوئے، جن میں 47 کو معمولی زخم آئے جبکہ 10 کی حالت نازک ہے۔
فائر فائٹرز کے مطابق ان حملوں کو روکنے کے لیے فضائی دفاعی نظام کے تحت انٹرسیپٹرز فائر کیے گئے، تاہم وہ میزائلوں کو ہدف تک پہنچنے سے نہ روک سکے، جس کے باعث بھاری وارہیڈز زمین پر گرے اور جانی و مالی نقصان ہوا۔ واقعے کے بعد امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔
دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق یہ حملہ ایران کی نطنز جوہری تنصیب پر مبینہ اسرائیلی کارروائی کے ردعمل میں کیا گیا۔ عالمی جوہری توانائی ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ دونوں واقعات کے بعد کسی مقام پر تابکاری کی سطح میں اضافہ نہیں دیکھا گیا۔
ادھر آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جوہری تنصیبات کے قریب عسکری کارروائیوں سے گریز کریں، جبکہ اسرائیلی حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ میزائل دفاعی نظام کو چکمہ دے کر اہداف تک کیسے پہنچے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








