بھارتی ریاست بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار ایک وائرل ویڈیو کے باعث شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں جس میں وہ ایک سرکاری تقریب کے دوران اسٹیج پر موجود ایک مسلم خاتون کا حجاب اتارتے دکھائی دیتے ہیں۔ واقعے کے سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی جبکہ سیاسی حلقوں میں بھی اس عمل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
واقعہ کیا ہے؟
وائرل ویڈیو میں دیک
ھا جا سکتا ہے کہ نتیش کمار پٹنہ میں منعقدہ ایک سرکاری تقریب میں شریک ہیں جہاں وہ تقریباً 1,283 نئے آیوش ڈاکٹروں کو تقرری کے لیٹرز تقسیم کر رہے تھے۔ اسی دوران انہوں نے اچانک اسٹیج پر موجود ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کے چہرے سے حجاب کھینچ کر نیچے کردیا۔
ویڈیو میں یہ بھی دیکھا گیا کہ اس موقع پر موجود دیگر اعلیٰ حکام جن میں نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری بھی شامل تھے صورتحال سنبھالنے کی کوشش کرتے رہے مگر یہ اقدام ہو چکا تھا۔
عوامی ردِعمل اور سوشل میڈیا کا غصہ
ویڈیو وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا۔ صارفین کی بڑی تعداد نے اس عمل کو شرمناک، غیر اخلاقی اور ناقابلِ قبول قرار دیا۔ کئی افراد کا کہنا تھا کہ حجاب کسی عورت کی ذاتی اور مذہبی شناخت ہے جسے بغیر اجازت چھونا یا اتارنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
کچھ صارفین نے نتیش کمار کے طرزِ عمل اور ذہنی حالت پر بھی سوالات اٹھائے جبکہ متعدد افراد نے خواتین کے احترام اور مذہبی آزادی کے حوالے سے سخت تنقید کی۔
سیاسی سطح پر ہلچل
واقعے کے بعد سیاسی محاذ پر بھی ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور رہنماؤں نے نتیش کمار کے اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نہ صرف ایک مخصوص مذہبی طبقے کی توہین ہے بلکہ بہار حکومت کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
سیاسی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ عوامی عہدوں پر فائز افراد کو ایسے حساس معاملات میں انتہائی احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارت میں مذہبی آزادی، خواتین کے حقوق اور سماجی حساسیت جیسے موضوعات پر پہلے ہی شدید بحث جاری ہے۔ ایسے میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز شخصیت کا یہ طرزِ عمل عوامی سطح پر شدید ردِعمل کا باعث بن گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








