ایلون مسک کا دعویٰ سچ؟ ٹیسلا کی آٹو میٹک کار نے انسانوں کو پیچھے چھوڑ دیا! دیکھیں حیران کن تجربے ویڈیو

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

ٹیسلا کی نئی خودکار ڈرائیونگ سسٹم FSD (Full Self-Driving) ورژن 14.1 کے ابتدائی تجربات نے صارفین اور ٹیکنالوجی ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ اس سسٹم کو 10 مرتبہ مختلف روٹس پر چلایا گیا اور ہر بار یہ بغیر کسی انسانی مداخلت کے روانی سے کام کرتا رہا۔

ڈرائیونگ کا انداز نہ صرف اعتماد بھرا تھا بلکہ حیرت انگیز طور پر انسانی انداز سے مشابہ بھی محسوس ہوا۔ گاڑی کی اسٹیئرنگ حرکتیں نہایت نرم تھیں، بریک وقت پر اور دھیرے انداز سے لگائی جاتی تھی، اور مجموعی طور پر یہ تجربہ بہت ہموار ثابت ہوا۔

پارکنگ گیراج میں ذہانت بھرا سفر

یہ نیا سسٹم پارکنگ لاٹس اور گیراجز میں بھی بہت کامیاب رہا۔ جب گاڑی پارکنگ گیراج میں داخل ہوتی ہے تو پہلے گیٹ کھلنے کا انتظار کرتی ہے، پھر خود ٹکٹ لیتی ہے اور اندر جا کر مناسب جگہ تلاش کرکے خودکار طور پر پارک ہو جاتی ہے۔ باہر نکلتے وقت بھی یہی عمل دوہرایا جاتا ہے۔

کچھ صارفین کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ سسٹم اب گیراج میں لگے سائن بورڈز کو پڑھ کر راستہ خود چن لیتا ہے یہاں تک کہ اگر گاڑی کو گیراج کے کسی کونے میں لے جایا جائے تب بھی وہ خود ہی باہر نکلنے کا راستہ ڈھونڈ لیتی ہے۔

رفتار اور رویے کے دو الگ موڈز

FSD v14.1 میں دو نئے موڈز بھی متعارف کروائے گئے ہیں۔

Hurry Mode: گاڑی نسبتاً تیز رفتار سے، کم لین تبدیلیوں کے ساتھ اور زیادہ پُراعتماد انداز میں چلتی ہے۔

Sloth Mode: یہ رفتار کی حد کے عین مطابق، نرمی سے اور انتہائی احتیاط کے ساتھ چلانے کے لیے ہے۔

ان موڈز کے آئیکونز تبدیل کرنا نہایت آسان ہے اور FSD کو پارک سے شروع کرتے ہی فوری ردعمل دیکھنے کو ملتا ہے۔

پارکنگ میں مہارت

گاڑی نے مختلف سپر چارجنگ پوائنٹس جیسے Tesla Diner اور سانتا مونیکا میں بھی بہترین انداز میں پارکنگ کی۔ نہ صرف درست جگہ پر بلکہ عین لائن کے درمیان پارک ہوئی جو کہ اکثر انسانی ڈرائیورز کے لیے بھی مشکل ہوتا ہے۔

نظام میں خود اعتمادی

کئی پیچیدہ حالات میں بھی FSD نے خود کو ثابت کیا۔ جیسے ایک تعمیراتی علاقے میں لین تبدیل کرنا، رات کے وقت سڑک پر پڑے ہوئے کون کو محفوظ طریقے سے عبور کرنا، یا سڑک کنارے اسٹاپ سائن پر عمل کرنا ہر جگہ یہ نظام پراعتماد اور ذمہ دار نظر آیا۔

ایک معمولی سا لمحہ ایسا بھی آیا جب ایک بس کے قریب سے گزرنے کے دوران گاڑی نے ہلکا سا بریک لگایا اور رفتار میں معمولی کمی آئی لیکن یہ اتنا مختصر اور نرم تھا کہ کوئی بڑا مسئلہ محسوس نہ ہوا۔

ہر سفر اب ممکن ہے بغیر ڈرائیور کے

یہ اپڈیٹ اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ اب ایک مکمل خودکار سفر — گھر کے گیٹ سے لیکر پارکنگ گیراج تک ممکن ہوچکا ہے۔ ایلون مسک کا یہ دعویٰ کہ ایف ایس ڈی اب ایسا محسوس ہوگا جیسے گاڑی کو شعور حاصل ہوگیا ہو اب حقیقت کے قریب نظر آتا ہے اور یاد رہے یہ ابھی ورژن 14.2 بھی نہیں ہے۔

Related Posts