مودی نفسیاتی مرض پیرانوئڈ پرسنلٹی ڈس آرڈر کا شکار ہیں ؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ دی فیڈرل)

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی پیرانوئڈ پرسنلٹی ڈس آرڈرکا شکار نظر آتے ہیں، پہلگام حملے میں شفاف تحقیقات کی پیشکش کے باوجود انہیں شک ہے کہ اس واقعے میں پاکستان ملوث ہے۔

پیرانوئڈ پرسنلٹی ڈس آرڈر کے مرض میں مبتلا شخص کو مسلسل دوسروں کو شک اور بے اعتمادی رہتی ہے، اسے نفسیاتی بیماری بھی کہہ جاتا ہے۔

کانگریس کے انتہائی سینیئر رہنما گودر نارائن ریڈی نے بھی نریندر مودی کو پیرانوئڈ پرسنلٹی ڈس آرڈر کا مریض قرار دیا ہے ۔

گودر نارائن ریڈی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وزیراعظم مودی اس نفسیاتی عارضے کا شکار ہیں جس میں دوسروں پر مسلسل شک اور بے اعتمادی کی علامات ظاہر ہوتی ہیں

ریڈی نے مزید کہا کہ مودی کا اپنے ماضی کو “چائے والا” یا “چوکیدار” کے طور پر پیش کرنا اور دوسروں پر الزام تراشی کرنا ان کی شخصیت کی خرابی کو ظاہر کرتا ہے۔

کانگریس رہنما نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنے وزیراعظم مودی کا مکمل میڈیکل چیک اپ کروانے کا مشورہ بھی دیا تھا۔

پیرانوئڈ پرسنلٹی ڈس آرڈر کا مرض کیا ہے ؟

پیرانوئڈ پرسنلٹی ڈس آرڈر شخصیت کی خرابی  ہے جس میں انسان دوسروں کی نیتوں پر شبہ کرتا ہے، معمولی باتوں کو سازش یا حملہ سمجھتا ہے۔

ایسے مریض  دشمنی اور انتقامی سوچ رکھتے ہیں، تنقید کو برداشت نہیں کرتے اور لوگوں سے فاصلہ رکھتا ہے حتیٰ کہ اپنے انتہائی قریبی افراد سے بھی دور ہوتے ہیں۔

پیرانوئڈ پرسنلٹی ڈس آرڈر کیا ہیں ؟

پیرانوئڈ پرسنلٹی ڈس آرڈر کا مریض ہمیشہ  دوسروں کی نیتوں پر مسلسل شک کرتا ہے جبکہ  بغیر ثبوت کے دھوکہ دہی یا فریب کا یقین کر لیتا ہے۔

پیرانوئڈ پرسنلٹی ڈس آرڈر میں مبتلا ہونے کی وجوہات کیا ہیں ؟

یہ مرض جینیاتی عوامل کے باعث بھی ہوتا ہے کہ  خاندان میں اس طرح کے مزاج کی موجودگی ہو یا بچپن کے بد ترین تجربات: دھوکہ، نظر انداز کیا جانا یا زیادتی ہونا ہے۔

پیرانوئڈ پرسنلٹی ڈس آرڈر قابل علاج ہے ؟

ایسے مریضوں کے لیے سائیکو تھراپی سب سے مؤثر طریقہ ہے تاہم ساتھ میں ادویات کا استعمال بھی بہتر نتیجہ دے دسکتا ہے تاہم اس کا مکمل علاج ممکن نہیں ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ سوویت یونین کے آمر جوزف اسٹالن، جرمن ڈکٹیٹر ادولف ہٹلر، سابق امریکی صدر ریچرڈ نکسن، امریکی صنعتکار اور فلم ساز ہاورڈ ہيوز بھی پیرانوئڈ پرسنلٹی ڈس آرڈر کا شکار رہے ہیں

Related Posts