پاکستانی سمندر تیل و گیس کا نیا مرکز؟ ماری انرجیز میدان میں آگئی؛ اسٹاک ایکسچینج کو بھی خط لکھ دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان کی توانائی تلاش کرنے والی بڑی کمپنی ماری انرجیز لمیٹڈ نے 23 نئے سمندری (آف شور) علاقے تیل و گیس کی تلاش کے لیے حاصل کر لیے ہیں۔ یہ علاقے پاکستان ای اینڈ پی آف شور بِڈ راؤنڈ 2025 کے نتیجے میں دیئے گئے ہیں۔

کمپنی نے یہ اطلاع پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو جمعرات کے روز دی۔ کمپنی کے مطابق ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پیٹرولیم کنسیشنز (DGPC) نے 12 نومبر 2025 کو جاری کردہ اپنے خطوط کے ذریعے ماری انرجیز کو ان 23 بلاکس کی عارضی منظوری دی ہے۔ ان میں سے 18 بلاکس میں ماری آپریٹر کے طور پر کام کرے گی جبکہ 5 بلاکس میں دیگر کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کرے گی۔

یہ بلاکس مختلف کمپنیوں کے درمیان مسابقتی بولی کے بعد دئیے گئے ہیں۔ ماری انرجیز نے بتایا کہ اس نے ترک کمپنی ترکش پیٹرولیم اوورسیز کمپنی (TPOC)، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (OGDCL)، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (PPL)، پرائم گلوبل انرجیز لمیٹڈ (Prime)، یونائیٹڈ انرجی پاکستان (UEP)، اورینٹ پیٹرولیم (OPI) اور فاطمہ پیٹرولیم کمپنی لمیٹڈ (FPCL) کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔

ماری انرجیز کو 10 مکران آف شور الٹرا ڈیپ بلاکس میں 100 فیصد حصہ ملا ہے جبکہ باقی علاقے جیسے بہر، ضرار، آف شور ڈیپ A تا F اور کیٹی بندر مختلف شراکتی منصوبوں کے تحت ترقی دیے جائیں گے۔

کمپنی کے مطابق ان بلاکس پر تیل و گیس تلاش کرنے کے باضابطہ حقوق تب ملیں گے جب حکومت کے ساتھ لائسنس اور پروڈکشن شیئرنگ معاہدے مکمل ہوں گے، شراکت دار کمپنیوں کے درمیان جوائنٹ آپریٹنگ ایگریمنٹس دستخط ہوں گے اور دیگر قانونی کارروائیاں مکمل کی جائیں گی۔

ماری انرجیز کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ اس کی طویل مدتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد نئے تیل و گیس کے ذخائر تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی توانائی سکیورٹی کو مضبوط بنانا ہے۔

Related Posts