ٹرمپ  کی دھمکی: ایران پرحملے کی تیاری

تازہ ترین

تازہ ترین

جنوری 2026 کے آغاز میں ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو واضح طور پر متنبہ کردیا کہ اگر ایرانی مظاہرین ہلاک ہوئے تو امریکا ایران پر چڑھائی کی مکمل تیاری کرچکا جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر بغیر لگی لپٹی رکھے یہ کہہ دیا  کہ اگر ایران میں حکومت پر امن مظاہرین پر تشدد یا قتل کرے گی تو امریکا مداخلت کرتے ہوئے مظاہرین کی مدد کی غرض سے کارروائی کیلئے تیار ہے اور صدر ٹرمپ نے جو جملے استعمال کیے ان کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ امریکی فورسز کارروائی کیلئے پوری طرح  تیار اور ضرورت پڑنے پر کارروائی کرسکتی ہیں۔

واضح رہے کہ ایران کے 47سالہ دور میں اتنی کثیر تعداد اور 31صوبوں میں سے 26 میں جاری  احتجاج کی مثال نہیں ملتی، جس کی ظاہراً وجہ ایرانی کرنسی کی خطرناک حد تک گراوٹ  ہے جس سے مہنگائی ہوشربا عروج پر پہنچ گئی اور مبینہ طور پر مظاہرین اسی معاشی بحران کی آڑ لے کر آزادئ اظہار  اور سپریم لیڈر پر مرکوز سیاسی نظام کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں  جو موجودہ حکومت کا تختہ الٹنے کے مطالبے کے مترادف ہے۔ آیت اللہ خمینی کے انقلاب 1979 کے بعد سے اب تک ایرانی حکومت کو 2 کثیر الجہتی تحریکات اور ملک گیر احتجاج کا سامنا رہا جن میں سے ایک 2019 میں شروع ہوا جو خام تیل کی قیمتوں میں غیر متوقع اضافے کے خلاف تھا  جبکہ دوسرا 2022 میں شروع ہونے والا احتجاج مہسا امینی کی موت کے بعد حقوقِ نسواں کی بنیاد پر شروع ہوا اور دونوں ہی مظاہروں میں ایرانی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں بچوں اور خواتین سمیت سیکڑوں مظاہرین جاں بحق ہوئے۔

قابل ذکربات یہ ہے کہ دونوں ملک گیر مظاہروں کے دوران امریکا اور اسرائیل سمیت کسی ملک نے عالمی قوانین کے خلاف جا کر سیکڑوں مظاہرین کی ہلاکت کے باوجود بھی ایران کو حملے کی کھلے الفاظ میں دھمکی نہ دی  مگر وینزویلا کے کامیاب امریکی  آپریشن کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہرین کے حوالے سے ایران کو عالمی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کھلم کھلا دھمکی دے ڈالی ہے۔ ایران کو اس وقت دو محاذوں پر بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، جس میں ایک تواندرونی انتشار  اور دوسرا بیرونی حملے کابڑھتا ہوا خدشہ شامل ہے جبکہ اقوامِ عالم یہ بات بھی واضح طور پر جانتی ہیں  کہ ماضی میں امریکی سی آئی اے کی ہم آہنگی سے ایران میں انٹیلی جنس آپریشن کے ذریعے رجیم چینج کی کوشش کی گئی، جو کہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکی جبکہ امریکا گزشتہ 5دہائیوں میں خفیہ کارروائی کے ذریعے کئی درجن رجیم چینج کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

ماضی قریب میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران پر حملے کے تناظر میں 14 جون 2025ء کو ایرانی عوام سے براہِ راست مخاطب ہو کر کہا کہ یہ لڑائی آپ کے خلاف نہیں ہے۔ہمارا مقصد اسلامی جمہوریہ کے جابر نظام سے آزادی ہے۔ ایران جب آزاد ہو گا تو ہر چیز بہتر ہو گی۔ امید نہ چھوڑیں، اپنا حق جانیں   اور اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہو جائیں۔ ہم اور آزاد دنیا آپ کے ساتھ ہیں۔ لیکن ہزاروں سال پر محیط تاریخ اور مشترکہ حب الوطنی کے جذبات رکھنے والی ایرانی قوم  جو بیرونی دشمن کے ملک پر کھلم کھلا  حملے سے قبل حکومت سے اختلاف رکھتی تھی، انہوں نے جنگ کے سبب یکجہتی کااظہار کرتے ہوئے رجیم چینج کرنے سے اجتناب کیا۔ مگر اب ایسا لگتا ہے کہ اندرونی انتشار کے معاشی محرکات تواپنی جگہ برقرار ہیں، لیکن  اسرائیل اور امریکا یقیناً مظاہرین کو شہ دینے میں کامیاب ہوتے جارہے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ یہ احتجاج کہیں تھمتا دکھائی نہیں دیتا اور اب اگر چند ہفتوں کی نہیں تو چند مہینوں کی بات لگتی ہے کہ ایران پر امریکی حملہ نوشتہ دیوار ہے۔ یہاں ایک اہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایران پرحملے کی صورت میں پاکستان کو کن پیچ و خم سے گزرنا پڑے گا اور کیا پاکستان   اس کے اثرات و مضمرات سے نبرد آزما ہونے کی تیاری کرسکے گا یا ماضی کی طرح ہمارے حکمران خوابِ خرگوش کے مزے لیتے رہیں گے؟  یقیناًوینزویلا کے حملے نے  ایک پنڈورا باکس کھول دیا ہے اور اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے اسرائیل اور امریکا جلد ہی ایران پر حملہ کرتے نظرآرہے ہیں۔ عالمی قانون اور اقوام متحدہ کا چارٹر آخری سسکیاں لے رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وینزویلا جیسے آپریشن کو نہایت دیدہ دلیری کے ساتھ تسلیم کیاجاتا ہے اور امریکا  روسی فلیگ ہولڈر جہاز کی قزاقی کرنے میں بھی  کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا۔ کیا یہ سال اسی طرح بھونچالوں میں گزر جائے گا؟اور پاکستان جیسے ممالک کسی ناکردہ گناہ کی پاداش میں خواہ مخواہ کسی لپیٹے میں آجائیں گے؟

اس سے قبل وینزویلا پر امریکی حملے پر  سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے  خطاب میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے کہا کہ دنیا پہلے ہی متعدد بحرانوں سے دوچار ہے۔ امریکا کی یکطرفہ فوجی کارروائی ان مقدس اصولوں اور ریاستی استثنا کے نظرئیے کے بھی منافی ہے اور ایسی کارروائیاں ایک ایسی خطرناک مثال قائم کرتی ہیں جو عالمی قانونی ڈھانچے کی بنیادوں کو کمزور کرسکتی ہیں۔  اجلاس میں ارجنٹینا سمیت 2 ممالک نے امریکا کے حق میں بیان دیا جبکہ امریکی کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کھل کر مذمت کرنے والے ممالک میں روس، جرمنی، کینیڈا، اٹلی، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ،  چین، ایران، کیوبا، میکسیکو، برازیل، چلی، فرانس اور کولمبیا شامل ہیں اور جن ممالک نے محتاط یا متوازن مؤقف اپنایا ،ان میں پاکستان، برطانیہ، پیراگوئے  اور اسپین سرفہرست ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی برادری ہو ش کے ناخن لے اور امریکا اور اسرائیل سمیت دیگر توسیع پسندانہ عزائم کے حامل ممالک کی دیگر ممالک میں دراندازی پرمبنی اقدامات کو لگام دی جائے، بصورتِ دیگر، بقول شاعر:

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں

محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی؟

Related Posts