آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے سندھ کے ضلع خیرپور میں بٹرسم ایسٹ-1 کنویں سے گیس اور کنڈینسیٹ کی دریافت کا اعلان کیا ہے۔ یہ معلومات کمپنی کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں سامنے آئی ہیں۔
اس کنویں کی کھدائی 30 جون 2025 کو شروع کی گئی تھی اور اسے سیمبر فارمیشن میں 3,800 میٹر کی گہرائی تک لے جایا گیا۔ یہ عمل او جی ڈی سی ایل کی اپنی تکنیکی مہارت اور اس کے جوائنٹ وینچر پارٹنر کے تعاون سے مکمل کیا گیا۔
وائرلائن لاگ کے تجزیوں کی بنیاد پر، لوئر گورو فارمیشن (میسیو اور بیسل سینڈز) میں دو ڈرل اسٹیم ٹیسٹ (DSTs) کیے گئے۔ پہلا ٹیسٹ میسیو سینڈ میں اور دوسرا بیسل سینڈ میں کیا گیا۔ دونوں ٹیسٹوں میں کنویں سے خاطر خواہ مقدار میں ہائیڈروکاربن حاصل ہوئے جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت یومیہ 22.5 ملین سٹینڈرڈ کیوبک فٹ گیس اور 690 بیرل کنڈینسیٹ فی دن رہی، جو کہ 32/64 انچ کے چوک پر ماپا گیا۔
لوئر گورو فارمیشن (میسیو اور بیسل سینڈز) سے یہ دریافت بٹرسم ایکسپلوریشن لائسنس میں ایک اور کامیابی کی علامت ہے۔ یہ دریافت ملکی توانائی کی طلب اور رسد کے درمیان فرق کو کم کرنے میں مدد دے گی اور او جی ڈی سی ایل کے ساتھ ساتھ ملک کے ہائیڈروکاربن ذخائر کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوگی۔
او جی ڈی سی ایل بٹرسم ایکسپلوریشن لائسنس کا 95 فیصد حصص کے ساتھ آپریٹر ہے جبکہ اس کا جوائنٹ وینچر پارٹنر گورنمنٹ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل) 5 فیصد حصص رکھتا ہے۔
ملکی برآمدات میں نئی تاریخ رقم، پاکستانی بیف کی خلیجی مارکیٹ میں دبنگ انٹری
یاد رہے کہ امریکیصدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان میں موجود تیل کے بڑے ذخائراور انہیں نکالنے سے متعلق معاہدے کا اعلان کردیا ہے جس نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کہ آیا کیا پاکستان واقعی اتنا تیل رکھتا ہے کہ وہ ایک دن بھارت کو برآمد کرسکے؟
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ امریکا اور پاکستان ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد پاکستان کے وسیع تیل کے زیر زمین ذخائر کو ترقی دینا ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ کیا معلوم شاید ایک دن وہ بھارت کو تیل بیچیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








