داعش نے کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

تازہ ترین

تازہ ترین

کابل: بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم دولتِ اسلامیہ (داعش) نے افغانستان کے دارالحکومت میں پاکستانی سفارتخانے پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کابل میں واقع پاکستانی سفارت خانے پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک پاکستانی سکیورٹی اہلکار زخمی ہوا۔ دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ سفارتخانے پر حملہ ناظم الامور کو قتل کرنے کی کوشش تھا جو حملے کے دوران محفوظ رہے۔

یہ بھی پڑھیں:

کراچی سمیت سندھ بھر میں یومِ ثقافت آج منایا جا رہا ہے

آج داعش سے منسلک ٹیلی گرام چینل پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے شدت پسند تنظیم داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کی اور بتایا کہ حملے میں ملوث دہشت گردوں کے پاس اوسط درجے کے ہتھیار تھے۔

داعش کے بیان کے مطابق سفارتخانے کے صحن میں موجود سفارتکار اور گارڈز پر فائرنگ کی گئی۔ واضح رہے کہ کابل پولیس کا بیان تھا کہ حملے کے بعد ایک مشکوک شخص پکڑا گیا تھا۔

مشکوک شخص کو اسلحے سمیت حراست میں لیا گیا جس پر پاکستانی سفارت خانے کے ناظم الامور عبید الرحمان نظامانی کو نشانہ بنانے کا الزام ہے۔ حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

افغان حکام کا کہنا تھا کہ واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ پاکستانی دفترِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ حملے میں پاکستانی سفارت خانے کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا تاہم ہمارا سفارتخانہ بند کرنے یا عملہ واپس بلانے کا ارادہ نہیں۔

ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کی عبوری حکومت کو فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کرنا ہوگا۔ ملوث افراد کو پکڑا جائے اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ افغانستان میں پاکستانی سفارتی حکام کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔

Related Posts