اسلام آباد: شہر اقتدار کے سیکٹر الیون میں لڑکے لڑکی کو برہنہ کرکے بلیک میل اور تشدد کرنے کے واقعے میں متاثرہ لڑکی اپنے بیان سے منحرف ہوگئی، لڑکی نے ہراساں کرنے اور بلیک میل کرنے والے مرکزی ملزم کو شناخت کرنے سے انکار کر دیا۔
یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا تھا جب چار افراد کی جانب سے ایک جوڑے کو بندوق کی نوک پر پکڑ کر زبردستی کپڑے اتارنے اور پھر مار پیٹ کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گزشتہ سال جولائی میں وائرل ہوئی تھی۔
ابتدائی طور پر پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 341، 354A، 506 (ii) اور 509 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ بعد ازاں ایف آئی آر میں عصمت دری، جنسی زیادتی، بھتہ خوری اور غلط قید سے متعلق دفعات بھی شامل کی گئیں۔
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے منگل کو کیس کی سماعت کی، جس دوران متاثرہ لڑکی نے اپنے الزامات سے مکرتے ہوئے مرکزی ملزم عثمان مرزا سمیت دیگر ملزمان کو شناخت کرنے سے انکار کردیا۔
متاثرہ لڑکی نے آج عدالت کے سامنے بیان میں کہا کہ پولیس نے ‘اسکینڈل کو من گھڑت بنایا’ اور دسمبر میں عدالت کی طرف سے فرد جرم عائد کیے گئے، لڑکی نے ملزمان کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔
اس نے دعویٰ کیا کہ اس نے کیس سے متعلق کسی دستاویز پر دستخط نہیں کیے اور پولیس اہلکار نے خالی کاغذوں پر اس کے دستخط اور انگوٹھے کے نشانات لیے۔
متاثرہ لڑکی نے عدالت میں کہا کہ میں اس کیس کی پیروی نہیں کرنا چاہتی، تاہم جج نے کیس کی سماعت 18 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کو دوبارہ عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی۔
عدالت میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں لڑکی نے کہا کہ عدالت کے سامنے پیش کیے گئے ملزمان ”حقیقی مجرم” نہیں تھے۔ متاثرہ نے مزید کہا کہ وہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں چاہتی تھی اور نہ ہی اس نے مجسٹریٹ یا پولیس کے سامنے ان کی بطور ملزم شناخت کی تھی۔
مزید پڑھیں: اغوا کا ڈرامہ، بیوی نے آشنا کی مدد سے شوہر کو قتل کرادیا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








