اسرائیل کی جانب سے تہران کے ٹریفک کیمروں کو ہیک کرکے اعلیٰ ایرانی حکام کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کی رپورٹس کے بعد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اسلام آباد کے سیف سٹی نگرانی کے نظام کی سائبر سیکیورٹی پر سنگین سوالات اٹھا دئیے۔ کمیٹی نے خبردار کیا کہ اگر اس نظام میں کوئی سیکیورٹی خلاف ورزی ہوئی تو اس سے حساس سرکاری سرگرمیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
یہ معاملہ پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر پلوشہ خان کی زیرِ صدارت ہونے والے کمیٹی اجلاس میں زیرِ بحث آیا جہاں اراکینِ پارلیمنٹ نے تہران میں ٹریفک کیمروں کے حالیہ ہیک ہونے کی رپورٹس کے بعد نگرانی کے نظام کی حفاظت کا جائزہ لیا۔
کئی سینیٹرز نے سیف سٹی منصوبے میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئر کے بارے میں وضاحت طلب کی اور سوال اٹھایا کہ آیا اس کا تعلق اسرائیلی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے تو نہیں اور اگر ایسا ہے تو کیا اس سے اعلیٰ سطحی سرکاری شخصیات کی نقل و حرکت کی نگرانی کرنے والے نظام میں سیکیورٹی کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے بہت سے سافٹ ویئر اسرائیلی کمپنیوں سے تعلق رکھتے ہیں جو ان کے مطابق حساس ماحول میں سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
انہوں نے تجویز دی کہ وی وی آئی پی شخصیات کی نقل و حرکت کی نگرانی کیلئے صرف سافٹ ویئر پر مبنی نظام کے بجائے زیادہ تر فزیکل یا ہارڈویئر پر مبنی نگرانی کے نظام پر انحصار کیا جائے۔
جے یو آئی (پی) کے سینیٹر طلحہ محمود نے بھی یاد دلایا کہ جب وہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین تھے تو اس منصوبے کی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ اس نظام میں شامل ایک کمپنی بظاہر ترکی سے کام کر رہی تھی لیکن اس کے روابط اسرائیل تک جا پہنچتے تھے۔
سیف سٹی منصوبے کے نمائندہ حکام نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ نظام میں مضبوط حفاظتی اقدامات موجود ہیں۔
کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ اس نظام میں استعمال ہونے والا بریف کیم (BriefCam) سافٹ ویئر 2021 میں متعارف کروایا گیا تھا اور اس وقت یہ ایک جاپانی کمپنی کی ملکیت ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








