دینِ اسلام میں خواتین کو مردوں کے برابر درجہ دیا گیا ہے، تاہم رشتوں کے اعتبار سے کہیں مردوں کو اوّلیت حاصل ہے تو کہیں خواتین کو جبکہ ماں کے روپ میں ایک خاتون کا درجہ مرد سے 3 گنا زیادہ رکھا گیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر گزشتہ روز اپنے پیغام میں صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ تمام کاروباری گھرانے اپنے بیٹوں کو آگے لے آتے ہیں، بیوی، بیٹیاں اور بہوئیں کہاں ہیں؟ صنفی تعصب اسلامی کلچر نہیں۔
پاکستان میں 1950 سے لے کر 2020 تک مردوزن کے تقابلی اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہر 100 خواتین کے مقابلے میں 1950 میں مرد 119.79 ہوا کرتے تھے۔
آج سے 2 سال قبل یعنی 2020 میں ہر 100 خواتین کے مقابلے میں مردوں کی عدد برتری صرف 106.02 رہ گئی جس کے خلاف نہ مرد آواز اٹھا سکتے ہیں، نہ خواتین اس پر فخر کا اظہار کرسکتی ہیں۔
جس طرح دورِ جاہلیت میں کسی شخص کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی تو اسے زندہ درگور کردیا جاتا تھا، آج بھی ایسی ہی متعدد روایات مل جاتی ہیں۔ مثلاً بیٹی پیدا ہونے پر بیوی کو طلاق دے دینا، بیٹی کے ساتھ امتیازی سلوک اور قرآن سے شادی وغیرہ۔یہ تمام اقدامات صنفی مساوات کے خلاف ہیں۔
وٹا سٹا بھی ایسی ہی ایک تکلیف دہ رسم ہے جس کا شکار ہونے والے دونوں جوڑوں میں سے خواتین کو ہی اس کا انجام بھگتنا پڑتا ہے۔ پاکستان 21ویں صدی میں داخل تو ہوگیا لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ صدیوں پرانی رسوم نے تاحال ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا۔
کسی بھی شخص کے ہاں بیٹی پیدا ہو یا بیٹا، اس پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اسلامی عقائد کے مطابق بیٹی یا بیٹے کی پیدائش مشیتِ ایزدی سے ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا نہ ہو تو وہ کسی بھی شخص کو اولاد نہ دے اور سب کے سب بے اولاد ہی مر جائیں۔
صنفی امتیاز صرف یہ نہیں کہ بیٹی پیدا ہوتے ہی اسے قتل کر ڈالا جائے بلکہ یہ بھی صنفی امتیاز ہے کہ بیٹے کو بہتر خوراک، لباس اور تعلیم دی جائے اور بیٹیوں کو بھوکا اور جاہل رکھتے ہوئے سستے کپڑوں پر ٹرخا دیا جائے۔
رسول اللہ ﷺ کی بے شمار احادیث اور قرآنِ پاک کی آیات سے ثابت ہے کہ خواتین بھی اتنی ہی عزت، احترام اور حقوق کی مستحق ہیں جتنے مردوں کے پاس ہیں۔ کم از کم بنیادی انسانی حقوق کے معاملے میں دونوں میں کوئی تخصیص نہیں۔
ایک جانب تو خواتین کو گھر کی لونڈی سمجھتے ہوئے کچن کی ذمہ داری انہی کے سر تھوپ دی جاتی ہے اور اگر گھریلو کام میں مرد غلطی سے ان کا ہاتھ بٹا بھی دیں تو انہیں بھی معاشرے سے طرح طرح کی باتیں سننے کو ملتی ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرہ یہ سمجھے کہ کوئی کام چھوٹا، بڑا، مرد کا یا خواتین کا نہیں ہوتا بلکہ جس شخص کی جسمانی صلاحیت اسے جتنا اور جس قسم کا کام کرنے کی اجازت دے، وہ اسے سرانجام دے سکتا ہے۔
تاریخِ اسلام ایسی بے شمار خواتین کے کارناموں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے میدانِ جنگ میں مردوں کو ناکوں چنے چبوا دئیے تھے۔ اس کے باوجود دینِ اسلام پر یہ کہہ کر اعتراض کیا جائے کہ یہ خواتین کو دباتا ہے تو اس سے بڑی ناانصافی کوئی اور نہیں ہوسکتی۔