مغرب میں اسلام مخالف تحاریک اور قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعات میں اضافہ دل سوز اور قابل افسوس ہے اور اس سے زیادہ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ سویڈن میں پیش آنے والے حالیہ شرمناک واقعہ پر عالم اسلام پر یوں محسوس ہوتا ہے کہ سکتہ طاری ہے۔
مغربی دنیا میں جن واقعات کو اسلاموفوبیا اور اللہ تعالیٰ کی آخری الہامی کتاب قرآن مجید کی توہین کی وجہ بیان کیا جاتا ہے ان میں نائن الیون سمیت دیگر واقعات اہمیت رکھتے ہیں۔ نائن الیون کے ساتھ ہی اسلام کے خلاف پراپیگنڈہ شروع ہوگیا تھا۔ مغربی سوسائٹی کے لوگوں کو اسلام کے خلاف گمراہ کیا گیا جبکہ اس دوران مسلمان ممالک منفی پراپیگنڈے کا ناصرف کوئی توڑ نہیں کرسکے بلکہ سائنسی بنیاد پر میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے مغربی دنیا کو آگاہی دنیا میںبھی ناکام رہے۔
اسلاموفوبیا اور مسلم مخالف واقعات کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ مغربی دنیا کے شدت پسند رہنماء بھی مسلمانوں کے خلاف زہر آلود پراپیگنڈہ کر رہے تھے جنہیں رائٹ ونگ کے سیاستدان کہا جاتا ہے ۔ ان لوگوں نے اسلام کے خلاف نفرت پھیلائی اور پھر لوگوں کی ایک بڑی تعداد دانستہ اور غیر دانستہ طور پرمسلمانوں کے خلاف ہوگئی جو رائٹ ونگ کے سیاسی اور ذاتی مفاد ات کا نتیجہ تھی۔
اگر ہم اس کے تیسرے پہلو کا جائزہ لیں تو آزادئ اظہارِ رائے کے تحت ایسے عوامل کو جائز اور قانونی قرار دیا جاتا ہے تاہم بعض اہم رہنماؤں کا بیان ہے کہ جو جائز اور قانونی ہو، وہ ضروری نہیں ہے کہ مناسب بھی ہو۔ تو اگر ہم مختلف ممالک کے قوانین کی طرف جائیں یا پھر جس ملک میں توہین آمیز عمل ہوا ہو، اس کے قانون کو دیکھیں تو راقم الحروف کو ایسا نہیں لگتا کہ قانون تشدد سے بھرپور واقعات کی اجازت دیتا ہو۔ تشدد کی اجازت وہ اپنے معاشرے میں کبھی نہیں دیتے تو ایسی آزادئ اظہار کی اجازت کیوں دی جارہی ہے جس کا راستہ تشدد اور تکلیف دہ واقعات کی طرف راغب کرتا ہو۔
سویڈن کے معلون سیاستدان راسمس پلوڈن کو پہلے بھی اپنے متعصب رویئے کی وجہ سے جیل کی سزاء ہوچکی ہے اور اس معلون شخص نے 21 جنوری سے پہلے ہی اپنے ناپاک ارادوں کا اظہار کردیا تھا جبکہ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ آزادئ اظہار کے نام پر اس معلون کو قرآن پاک کو جلانے کی قانونی طور پر اجازت بھی دیدی گئی جو کہ افسوسناک امر اور آزادی اظہار رائے کی اصل روح کے خلاف ہے۔
بین الاقوامی قانون کی بات کی جائے تو یونیورسل ڈکلریشن کی دفعہ 7 اس معاملے سے متعلق واضح ہے کہ کسی بھی مذہب یا عقیدے کی توہین نہیں کی جاسکتی۔ دفعہ 18 سے بھی واضح ہے کہ کسی بھی مذہب یا عقیدے کی عبادات کو کسی بھی طرح نفرت کا نشانہ نہیں بنایا جاسکتا۔
ستم ظریفی یہ کہ اس افسوسناک واقعہ پر اسلامی دنیا کا ردعمل بھی پژمردگی کے ساتھ سامنے آیا اور اس ردعمل میں جذبے کا شدید فقدان تھا جس کے یہ واقعات متقاضی ہیں۔21 جنوری کو پیش آنے والے اس بے حرمتی کے واقعہ پر تقریباً 10 ممالک نے مذمتی بیانات جاری کرنے پر اکتفا کیا۔ترکیہ نے اس معاملے کو اسلام پر حملہ قرار دیا تاہم دیگر ممالک نے صرف مذمت کی اور پیچھے ہٹ گئے۔
دنیا بھر میں کم و بیش 57 ممالک او آئی سی کے رکن ہیں اور 57ممالک کا بلاک بنتا ہے جس کی طرف سے مذمت اور اسلام پر حملہ قرار دئیے جانے کا بیان سامنے آنا چاہئے تھا۔ترکیہ نے کسی حد تک دبنگ بیان دیا ۔
اقوامِ متحدہ کی طرح او آئی سی کا بھی اپنا ایک چارٹر ہے تو کیا اس چارٹر کو صرف تزئین و آرائش کیلئے استعمال کیا جائے گا؟ کیا اس پر عملدرآمد کی نوبت کبھی نہیں آئے گی؟ یہی وہ وقت تھا جب او آئی سی کو اپنے چارٹر پر عمل کرنا تھا، او آئی سی کے رکن ممالک کو بھی اس چارٹر کو صحیح روح کے مطابق سمجھنا ہوگا۔
او آئی سی کا چارٹر یہ کہتا ہے کہ اس قسم کے واقعات پردفعہ 6 کے تحت اسلامی تعاون تنظیم کا ہنگامی سربراہی اجلاس بلایا جانا چاہئے جس میں تمام رکن ممالک کے سربراہ شریک ہوں گے کیونکہ قرآنِ پاک کی توہین وہ واقعہ ہے جس سے دنیا بھر میں پھیلے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں تاہم توہین کے معاملے پر او آئی سی نے نہ تو ہنگامی اجلاس طلب کیا اور نہ ہی واقعے کے خلاف مسلم دنیا کے سربراہان ایک میز پر بیٹھ کر کوئی مجموعی ردِ عمل مرتب کرسکے۔
سیکریٹری جنرل او آئی سی نے واقعے کی مذمت کی جو کسی حد تک درست عمل ہے تاہم جس بڑے پیمانے پر مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے، اسی طرح مسلم دنیا کے سربراہان سر جوڑ کر نہ تو آمنے سامنے آئے اور نہ ہی کوئی حقیقی ایکشن لیا گیا۔
کہا جاتا ہے کہ ہنگامی اجلاس صرف انتہائی اہمیت کے حامل معاملات کیلئے بلایا جاسکتا ہے تو قرآنِ پاک کی توہین سے بڑھ کر او آئی سی کیلئے انتہائی اہمیت کا معاملہ اور کیا ہوسکتا ہے؟جس سے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔
او آئی سی کا قیام ہی اس بات پر عمل میں آیا تھا کہ مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا تاہم مسلمانوں کے سب سے بڑے مفاد یعنی قرآنِ پاک کی تعظیم کا ہی تحفظ نہ کیا جاسکا۔
سب سے بڑا ایکشن تو یہ لیا جانا چاہئے تھا کہ ایسے ممالک جن میں قرآنِ پاک کی توہین ہورہی ہے، مسلمان ممالک ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کردیں نہ تو ان پراڈکٹس کو کوئی مسلمان استعمال کرے اور نہ ہی کوئی مسلم ملک انہیں درآمد کرے۔ اس معاملے میں ذمہ داری تو پاکستان کی بھی بنتی ہے اور او آئی سی اس قسم کے سنگین واقعات پر ایک بلاک کی شکل میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس کا بھی مطالبہ کرسکتا ہے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔
توہین آمیز عمل گزشتہ برس بھی کیا گیا تھا اور اگر اس وقت بھی اس قسم کا ایکشن لے لیا جاتا تو مسلم مخالف عناصر کو اتنی کھلی چھوٹ نہ ملتی، اس وقت بھی مسلم دنیا نے توہین آمیز شخص کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جبکہ اقوامِ متحدہ قوانین کے تحت او آئی سی مسلم برادری کے ایک بلاک کی حیثیت سے ایسے واقعات کے خلاف ایکشن کا مطالبہ کرسکتی ہے۔
نیوزی لینڈ میں مسجد پر حملہ ہوا اور بہت سے مسلمان شہید ہوئے جبکہ کیوی تہذیب میں رائٹ ونگ اور نفرت آمیز تقاریر کا کوئی تصور نہیں ہے تاہم مغربی دنیا میں مسلمانوں کے خلاف پراپیگنڈہ، شدت پسندی اور نفرت آمیز تقریریں سیاسی حربے کے طور پر بھی شروع کردی گئی ہیں جسے اپنے ہی عوام کے مابین مقبولیت حاصل کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیاجاتا ہے۔
پیٹرو ڈالر سے مالا مال مسلم ممالک کے سربراہان کو اب ہوش آجانا چاہیے کہ اگر وہ اسلامو فوبیا کے تدارک کیلئے مضبوط حکمت عملی نہیں اختیار کرینگے تو مسلمانوں کی زندگی بتدریج اجیرن ہوتی جائیگی۔
ترکیہ اور روس بھی اس معاملے میں مسلم امہ کے ساتھ ہیں۔ ترکیہ نے اسٹینڈ لیتے ہوئے کہا کہ یہ مسلمانوں پر حملہ ہے اور سویڈن کو نیٹو کا حصہ نہیں بننے دیں گے کیونکہ اس نے اسلام کی توہین کی ہے۔ کسی بھی مسلمان ملک نے اس معاملے میں ساتھ دینے کیلئے پاکستان سے بھی رجوع نہیں کیا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عوامی سفارت کاری، قانونی سفارت اور سربراہانِ مملکت کی سطح پر توہینِ اسلام جیسے معاملات کو اٹھائیں۔ ترکیہ نے جس طرح سویڈن کے خلاف ایکشن لیا ہے، سویڈن پر دباؤ پڑا جو سویڈن میں موجود نفرت پھیلانے والے شخص کو سزا دینے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ترکیہ نے سویڈن کے سفر کو بلایا، احتجاجی مراسلہ اور ڈی مارش بھی تھمایا ، یہی صورتحال پاکستان سمیت دیگر اسلامی ممالک میں بھی ہونی چاہئے تھی۔ ہمیں ایسا فریم ورک بھی اپنانا ہوگا جس کے تحت توہین آمیز معاملات کے ذمہ داروں کو مستقبل میں ایسے واقعات ہونے پر سزا دی جاسکے جبکہ ایسے واقعات کا قلع قمع کرنے کیلئے طریقہ کار پہلے ہی چارٹر پر موجود ہے۔
ہوسکتا ہے کہ دو طرفہ بات چیت میں کوئی ملک سویڈن یا توہین کے معاملات کے ذمہ دار کسی دوسرے ملک پر اثر انداز نہ ہوسکے تاہم مسلم ممالک کی اجتماعی کاوشیں اس سلسلے میں کارگر ثابت ہوسکتی ہیں کیونکہ اب بھی اگر امت مسلمہ کے لیڈران نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو خدانخواستہ کل یہ ہاتھ ان کے گریبانوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں اور مسلمانوں کی تضحیک میں اس قدر اضافہ ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کیلئے مغرب میں عرصہ حیات تنگ ہوجائیگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں