اسرائیلی فوج نے حماس کے اچانک حملے پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسے حماس کے حملے کی منصوبہ بندی کا علم تھا مگر اس کی شدت کا اندازہ نہیں تھا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کو حماس کے حملے سے پہلے اس کی منصوبہ بندی کی انٹیلی جنس اطلاعات موصول ہوچکی تھیں۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ حماس کے حملے کی انٹیلی جنس اطلاعات تھیں مگر ہمیں حملے کی شدت کا اندازہ نہیں تھا۔
حماس کے حملے کی منصوبہ بندی کی انٹیلی جنس اطلاعات پر ہم یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ واقعی میں حملہ اتنا شدید ہوگا، تاہم اسرائیلی فوج اس معاملے کو لے کر تحقیقات کررہی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کے انتہا پسند وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے غزہ میں قیامت برپا کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ غزہ کے تمام اسپتال لاشوں اور زخمیوں سے بھر گئے ہیں، دوائیں ختم ہونے کے قریب ہیں۔
العربیہ کے مطابق انتہاپسند وزیر نے حماس کے حملے کا نشانہ بننے والی اسرائیل کی سدیروت کالونی کے دورے کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں بسنے والے تمام یہودی آباد کاروں کو اسلحہ سے لیس کریں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








