سکھر میں ظالموں کے ہاتھوں زخمی ہونے والی اونٹنی، جس کا جبڑا ٹوٹ گیا تھا اور ٹانگ کاٹ دی گئی تھی، کی میڈیکل رپورٹ منظرِ عام پر آگئی ہے، جس کے مطابق آپریشن کامیاب رہا اور جبڑے کی ہڈی کو درست کر دیا گیا ہے۔
سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کو زخمی اونٹنی کی میڈیکل رپورٹ موصول ہوئی، جو سیکریٹری لائیواسٹاک کاظم جتوئی نے ارسال کی تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زخمی اونٹنی ’’چاندنی‘‘ کا کامیاب آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے، اس کا جبڑا درست کر دیا گیا ہے جبکہ دائیں پچھلی ٹانگ سرجری کے ذریعے کاٹ دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ماہر ویٹرنری ڈاکٹروں نے تین گھنٹے طویل آپریشن خون کے ضیاع کے بغیر مکمل کیا۔ یہ آپریشن ڈاکٹر جاوید کھوسو، ڈاکٹر ذوالفقار اوٹھو اور ڈاکٹر علی گوپان نے انجام دیا۔
سیکریٹری لائیواسٹاک نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اونٹنی اب خطرے سے باہر ہے اور ہوش میں ہے، جبکہ میڈیکل ٹیم اب اس کی صحتیابی اور مسلسل نگرانی پر توجہ دے رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ اونٹنی کے علاج میں بہترین سہولیات فراہم کی جائیں اور مصنوعی ٹانگ لگانے کے لیے ماہرین سے مشورہ کیا جائے۔
واضح رہے کہ 20 ستمبر 2025 کو سکھر کے علاقے صالح پٹ میں اونٹنی کی ٹانگ کاٹنے کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کے بعد اسے علاج کے لیے اینیمل سینٹر منتقل کیا گیا۔
بعد ازاں اونٹنی کے علاج اور اسے دوبارہ چلنے کے قابل بنانے کے لیے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا، جس کے چیئرمین ڈاکٹر گوردھن داس مقرر ہوئے۔
ڈی جی لائیواسٹاک ڈاکٹر حزب اللہ بھٹو نے بھی سی ڈی آر ایس شیلٹر ہوم کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اونٹنی کے ایکسرے دیکھنے کے بعد میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








