کراچی: شہر قائد میں بھتہ خوری کے واقعات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں اور اس بار معروف سماجی رہنما اور جے ڈی سی فاؤنڈیشن کے سربراہ ظفر عباس نشانہ بنے ہیں۔
پولیس کے مطابق ٹپوسلطان تھانے میں بھاری بھتہ طلب کیے جانے اور قتل کی دھمکیاں ملنے پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق یہ واقعہ 25 ستمبر کو پیش آیا، جب شکایت کنندہ دانیال حیدر اپنے دفتر میں ظفر عباس کے ہمراہ موجود تھے کہ ظفر عباس کو ان کے ذاتی نمبر پر ایک کال موصول ہوئی۔ نامعلوم کالر نے انہیں سہ پہر تین بجے شاہراہ فیصل پر واقع ایک نجی ہوٹل میں ملاقات کے لیے بلایا۔
ظفر عباس کے پہنچنے پر وہاں تین افراد نے انہیں ماہانہ 14 کروڑ روپے بھتہ دینے کا مطالبہ کیا اور واضح دھمکی دی کہ اگر ادائیگی نہ کی گئی تو انہیں قتل کردیا جائے گا۔ مقدمے میں ملزمان کی شناخت محمود اختر، محسن واسطی، یاور سائی اور منظر کاظمی کے ناموں سے کی گئی ہے۔
موٹرسائیکل سے ٹکر ماری، جھگڑے کے بہانے گاڑی ہتھیالی! لاہور میں کار چوری کا انوکھا انداز، ویڈیو
پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد تحقیقات سی آئی اے کے حوالے کردی ہیں تاکہ اس سنگین واقعے کی مکمل چھان بین کی جا سکے۔ حکام کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
ظفر عباس کے خلاف سنگین نوعیت کی دھمکیوں پر مختلف سماجی حلقوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اور سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ نہ صرف ظفر عباس کی جان کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے بلکہ شہر میں بھتہ مافیا کے بڑھتے ہوئے خطرے پر بھی قابو پایا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








