افغانستان کی وزارتِ امرِ بالمعروف و نہی عن المنکر کے سینیئر شیخ الحدیث مولانا محمد نسیم حقانی نے ایک متنازع بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں موجودہ سیاسی و معاشرتی نظام کفریہ ہے اور اس کے خلاف جہاد کرنا فرضِ عین بنتا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ایک وڈیو کلپ میں دیکھا اور سنا جا سکتا ہے کہ شیخ الحدیث مولانا محمد نسیم حقانی نے واضح الفاظ میں پاکستان کے خلاف جہاد کی دعوت دی ہے۔
امارت اسلامیہ کے وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے سینیئر رکن شیخ الحدیث مولانا محمد نسیم حقانی نے پاکستان کے موجودہ نظام کو کفریہ قرار دے کر اس کے خلاف جہاد کو فرض عین قرار دیا اور کہا کہ مفتی تقی عثمانی سمیت پاکستانی علماء کو آئی ایس آئی سے ڈرنے کے بجائے حق بات کہنا چاہیے۔ pic.twitter.com/NZTvRXJGOf
— Eye on Frontlines (@EyeOnFrontlis) September 9, 2025
مولانا نسیم حقانی نے مخصوص طور پرمفتی تقی عثمانی سمیت دیگر علماء کرام سے یہ اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان کے اداروں سے خوفزدہ ہونے کے بجائے حقائق بیان کریں حق اور سچ کی آواز اٹھائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ علماء کا کام صرف مذہبی مسائل تک محدود نہیں بلکہ معاشرتی عدل اور سچائی پر مبنی کردار ادا کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ خوف یا دباؤ کی وجہ سے علمائے کرام خاموشی اختیار نہ کریں بلکہ اپنے مذہبی اور اخلاقی اصولوں کے مطابق کھل کر بات کریں۔
مولانا حقانی نے زور دیا کہ جہاد کی اصطلاح کا استعمال مبالغے میں نہیں بلکہ موجودہ نظام کی ناانصافیوں اور ظلم کی روشنی میں ہونا چاہیے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان نے افغانستان کو واضح پیغام دیا ہے کہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں تاہم اس پر عمل درآمد کی بجائے افغان طالبان پاکستان کے خلاف ہی بیان بازی کرنے شروع ہوگئے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








