اسامہ قتل کیس، چیف کمشنر کے حکم پر تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی

تازہ ترین

تازہ ترین

Police demanded Rs 500,000 for the theft of a car parked outside the house of a Hyderabad resident

اسلام آباد میں نوجوان طالبِ علم اسامہ قتل کیس میں چیف کمشنر کے حکم پر تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسامہ قتل کیس کی تفتیش کیلئے جے آئی ٹی کے سربراہ ایس پی صدرسرفراز ورک ہوں گے۔ آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی کا بھی ایک ایک نمائندہ جے آئی ٹی میں شامل ہے۔

ڈی ایس پی رمنا، ڈی ایس پی انوسٹی گیشن اور ایس ایچ او رمنا بھی جے آئی ٹی کا حصہ ہیں۔ جے آئی ٹی کو چیف کمشنر نے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 19 کے تحت تشکیل دیا ہے۔

جے آئی ٹی ٹیم جلد از جلد تحقیقات مکمل کرکے اپنی رپورٹ پیش کرے گی جبکہ اے ٹی ایس کے گرفتار 5 اہلکاروں کو ایف 8 کچہری پہنچا دیا گیا۔ ملزمان کو ڈیوٹی جج کے روبرو پیش کیا جانا تھا تاہم ڈیوٹی جج عدالت نہ پہنچ سکے۔

عدالت لاک ہونے کے باعث ملزمان کو دوبارہ پولیس وین میں بٹھا دیا گیا جنہیں انتہائی سخت سیکیورٹی میں ایف ایٹ کچہی پہنچایا گیا تھا۔ پولیس اہلکار ملزمان بغیر ہتھکڑی کے عدالت کے روبرو پیشی کیلئے لائے گئے تھے۔ 

یاد رہے کہ اِس سے قبل پولیس کی فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت کے معاملے پر چیف کمشنر اسلام آباد عامر علی احمد نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دے دیا۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نوجوان کی پولیس فائرنگ میں ہلاکت کی انکوائری کریں گے۔

گزشتہ روز کے نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ انکوائری رپورٹ 5 دن میں جمع کروائیں گے۔اسلام آباد میں پولیس کی فائرنگ سے کار سوار نوجوان کی ہلاکت معمہ بن گئی، ابتدائی رپورٹ کے مطابق نوجوان کو 22 گولیاں ماری گئی ہیں۔

مزید پڑھیں: پولیس فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت،واقعے کی جوڈیشل انکوائری کا حکم

Related Posts