کویت کی طرف سے پاکستانی شہریوں کے لیے ملازمتوں پر عائد طویل پابندی باقاعدہ طور پر ختم کرنے کے بعد ہزاروں ہنر مند اور نیم ہنر مند پاکستانیوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو گئے ہیں۔
یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اور باہمی مفاد کو فروغ دینے کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تقریباً 15 سال بعد کویت کی جانب سے پاکستانی ورک فورس کے لیے ملازمتوں کی بحالی کو دونوں حکومتوں نے خوش آئند قرار دیا ہے۔
کویت میں ملازمت کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے مختلف شعبوں میں مواقع موجود ہوں گے جن میں ڈرائیورز، کارپینٹرز، الیکٹریشنز، ویلڈرز، ٹیکنیشنز، ہیلتھ کیئر اور تعمیراتی کارکن شامل ہیں۔
بھرتی کے اس عمل کو شفاف اور محفوظ بنانے کے لیے دونوں ممالک نے آن لائن ویزا نظام متعارف کرانے پر اتفاق کیا ہے تاکہ ایجنٹوں کے ذریعے ہونے والے استحصال سے بچا جا سکے اور نوجوانوں کو براہِ راست روزگار ملے۔
یہ فیصلہ حکومت پاکستان کی خلیجی ممالک میں ہنر مند افرادی قوت برآمد کرنے کی نئی پالیسی کا حصہ ہے۔ 2024 کے دوران پاکستان نے 5 لاکھ سے زائد ورکرز بیرونِ ملک بھجوائے جس کے نتیجے میں ترسیلاتِ زر 30 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔
حکام کو امید ہے کہ کویت میں نئی ملازمتوں کے آغاز سے نہ صرف بے روزگاری میں کمی آئے گی بلکہ ملکی معیشت کو مستحکم بنانے میں بھی مدد ملے گی۔
ملازمت کے خواہشمند افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ میں باقاعدہ رجسٹریشن کروائیں، جعلی ایجنٹوں سے ہوشیار رہیں اور ملازمتوں اور ویزا سے متعلق تازہ ترین سرکاری ہدایات پر نظر رکھیں۔
اوورسیز پاکستانیوں کی وزارت جلد ہی ایک خصوصی پورٹل متعارف کرائے گی جس میں ملازمتوں کی کیٹیگریز اور اہلیت کی تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔
یہ اقدام بیرونِ ملک روزگار کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے جو ملک میں معاشی بہتری اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کی نوید ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








