کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں واقع ایک مدرسے میں طالبعلم پر تشدد کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جس نے والدین اور مقامی شہریوں کو شدید غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔
متاثرہ لڑکے کی والدہ، صائمہ عامر زوجہ محمد عامر نے تھانہ سمن آباد میں ایک تحریری درخواست جمع کرائی ہے جس میں انہوں نے اپنے 16 سالہ بیٹے محمد حسان پر مدرسے کے قاری یاسین کی جانب سے مبینہ بہیمانہ تشدد کی تفصیلات بیان کی ہیں۔
صائمہ عامر کے مطابق ان کا بیٹا مدرسہ ادارہ الحجرہ النور سوسائٹی بلاک 19 میں قرآن حفظ کر رہا تھا، جہاں ستمبر 2025 میں سبق یاد نہ ہونے پر قاری یاسین نے ڈنڈوں سے شدید تشدد کیا۔

درخواست کے مطابق قاری نے حسان کی ٹانگ پر بار بار ڈنڈے مارے، جس سے اسے شدید اندرونی زخم آئے۔ متاثرہ طالبعلم کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ تین روز تک زیر علاج رہا جبکہ اس کی ایم آر آئی رپورٹ میں جسمانی نقصان کی تصدیق ہوئی ہے۔
متاثرہ والدہ نے مزید بتایا کہ اس واقعے میں قاری یاسین کا قریبی رشتہ دار حارث فرید قریشی سہولت کار کے طور پر شامل ہے، جو نہ صرف قاری کو تحفظ فراہم کر رہا ہے بلکہ واقعے کو دبانے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق، واقعے کے بعد مدرسے کی انتظامیہ نے قاری یاسین کو برطرف تو کر دیا، مگر وہ اس وقت روپوش ہے اور اس کا موبائل فون بند ہے۔
شکایت میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ حارث فرید قریشی بار بار یقین دہانیاں کروانے کے باوجود نہ خود سامنے آیا اور نہ ہی قاری کو پیش کیا۔ اب وہ مدرسے کے دیگر عملے اور متاثرہ خاندان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہا ہے، تاکہ کوئی اس واقعے میں مداخلت نہ کرے۔
صائمہ عامر نے ایس ایچ او تھانہ سمن آباد سے فوری قانونی کارروائی کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ قاری یاسین اور اس کے سہولت کار حارث فرید قریشی کو گرفتار کیا جائے تاکہ نہ صرف ان کے بیٹے کو انصاف مل سکے بلکہ مدارس میں بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان کی روک تھام بھی ہو سکے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، شکایت موصول ہونے کے بعد واقعے کی ابتدائی تفتیش شروع کر دی گئی ہے جبکہ متعلقہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ شہری حلقوں نے اس واقعے پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مدارس میں جسمانی سزا کے خلاف سخت قانونی اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








