بالی وُڈ کے معروف اداکار اور سابق رکن پارلیمنٹ پاریش راول کی نئی فلم دی تاج اسٹوری ریلیز سے قبل ہی شدید تنازع کا شکار ہوگئی ہے۔ فلم 31 اکتوبر کو نمائش کے لیے پیش کی جانی ہے مگر اس کی ریلیز رکوانے کے لیے مختلف حلقے سرگرم ہو گئے ہیں۔
تُشّار امرِش گوئل کی ہدایت کاری میں بنائی گئی فلم دی تاج اسٹوری کو سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن نے اسے سرٹیفکیٹ جاری کیا ہے۔ کہانی ایک عدالتی ڈرامے کے گرد گھومتی ہے جس کا پس منظر تاج محل سے جڑا ہے۔ پریش راول فلم میں ایک ٹورسٹ گائیڈ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
فلم کے پوسٹرز اور کہانی سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ فلم کے پوسٹر میں تاج محل کے گنبد کی جگہ ایک ہندو دیوتا کی تصویر دکھائی گئی ہے جو تاریخی حقائق کو مسخ کرنے اور مذہبی اختلافات کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔
فلم کے پروڈیوسرز کا کہنا ہے کہ یہ فلم کسی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ تاریخی مباحث اور عدالتی مقدمات پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق فلم کی مکمل تفصیلات سینسر بورڈ کو فراہم کی گئی ہیں اور فلم کو قانونی طور پر کلیئرنس حاصل ہے۔
دوسری جانب دہلی ہائی کورٹ میں ایڈووکیٹ شکیل عباس نے فلم کی نمائش روکنے کے لیے درخواست دائر کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بی جے پی کے بعض رہنما بھی فلم کی مخالفت میں سامنے آگئے ہیں۔
بی جے پی کے ترجمان رجنیش سنگھ نے الزام لگایا ہے کہ فلم کی کہانی اس کیس پر مبنی ہے جو انہوں نے 2022 میں الہ آباد ہائی کورٹ میں دائر کیا تھا جس میں تاج محل کے بند 22 کمروں کو کھولنے کی استدعا کی گئی تھی۔
رجنیش سنگھ کا کہنا ہے کہ فلم کی ریلیز ان کے کیس پر اثر انداز ہوسکتی ہے لہٰذا اس کی نمائش فوری طور پر روکی جائے۔ادھر وزارتِ اطلاعات و نشریات اور سینسر بورڈ کو بھی اس حوالے سے باضابطہ شکایت موصول ہو چکی ہے۔ فلم میں ذاکر حسین، امرتا خانولکر، نمیت داس اور سنیہا واگ سمیت دیگر اداکار اہم کرداروں میں نظر آئیں گے۔
فلمی تجزیہ کاروں کے مطابق دی تاج اسٹوری ایک اور ایسی فلم بن کر سامنے آئی ہے جو تاریخی و مذہبی تنازعات کو چھیڑنے کے باعث خبروں کی زینت بن گئی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








