میئر کراچی کے بعد واٹر بورڈ نے بھی بچے کی موت کے حادثے سے خود کو بری الذمہ کردیا!

تازہ ترین

تازہ ترین

معصوم بچے کی موت پر پورا شہر سوگوار ہے، فوٹو ایم ایم

کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کارپوریشن نے بچے کے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے واقعے پر اپنا بیان جاری کیا ہے۔

کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ جہاں یہ دل خراش حادثہ پیش آیا، وہاں اُن کا کوئی نظام (سیوریج لائن یا مین ہول) موجود نہیں ہے۔

واضح رہے کہ تین سالہ بچے کی لاش، جو کراچی کے گلشنِ اقبال کے علاقے میں نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گر گیا تھا، حادثے کے 14 گھنٹے بعد ایک نالے سے تقریباً ایک کلومیٹر دور سے برآمد ہوئی۔

ترجمان واٹر کارپوریشن کے مطابق جس مقام پر واقعہ پیش آیا وہاں واٹر کارپوریشن کا کوئی سسٹم موجود نہیں، نہ ہی اس مقام پر سیوریج کی لائن ہے اور نہ ہی واٹر کارپوریشن کا کوئی مین ہول واقع ہے۔ ترجمان نے مزید واضح کیا کہ برساتی نالوں کی مرمت، دیکھ بھال اور صفائی کے امور واٹر کارپوریشن کے دائرۂ اختیار میں شامل نہیں ہیں۔

سرکاری اداروں کی فراہم کردہ بھاری مشینری اب جائے وقوع پر پہنچ چکی ہے اور یونیورسٹی روڈ ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

اس سے قبل ریسکیو اہلکاروں نے شکایت کی تھی کہ انہیں کسی ادارے کی طرف سے بھاری مشینری فراہم نہیں کی گئی اور مین ہول کے اندر تیز پانی کے بہاؤ نے بچے کی تلاش کو انتہائی مشکل بنائے رکھا۔ ریسکیو حکام کا کہنا تھا کہ کھدائی کے لیے مشینری استعمال کرنے اور غوطہ خور تعینات کرنے کے باوجود اُس وقت بچے کا سراغ نہیں مل سکا تھا۔

Related Posts