دنیا بھر میں کھلبلی مچ گئی، ہیکرز نے واٹس ایپ اکاؤنٹس کو جاسوسی ایپس کے ذریعے نشانے پر رکھ لیا

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی تصویر

ہیکرز نے اب واٹس ایپ سمیت دیگر میسجنگ پلیٹ فارمز کو نشانہ بنانے کے لیے جدید ترین جاسوسی سافٹ ویئر کا استعمال شروع کر دیا ہے۔

امریکی سائبر ڈیفنس ایجنسی کی تازہ ترین وارننگ نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہونا اب پہلے سے کہیں زیادہ آسان اور خطرناک ہو چکا ہے۔ اگر آپ اپنا اکاؤنٹ محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو فوراً اپنی سیکورٹی سیٹنگز چیک کریں۔

سی آئی ایس اے (سائبر سیکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی) کے مطابق ہیکرز انتہائی باریک بینی سے بنائی گئی حکمتِ عملی، نفیس ٹارگٹنگ اور سوشل انجینئرنگ کے ذریعے صارف کی میسجنگ ایپس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک بار رسائی ملنے کے بعد یہی سسٹم مزید بدنیتی پر مبنی سافٹ ویئر انسٹال کرتا ہے جو موبائل فون کو مکمل طور پر کمزور بنا دیتا ہے۔

یہ حملے عام صارفین پر نہیں بلکہ زیادہ تر اہم شخصیات، صحافیوں، کاروباری افراد، پالیسی میکرز اور ہائی پروفائل لوگوں پر ہوتے ہیں لیکن خطرہ صرف انہی تک محدود نہیں۔ بدنیتی پر مبنی لنکس، جعلی QR کوڈز، غیر مصدقہ ایپ انسٹالیشنز، موبائل میلویئر اور مشہور ایپس کی نقل کرنے والی جعلی ایپس یہ سب عام صارف تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

سائبر حملوں سے اپنا واٹس ایپ کیسے بچائیں؟

آپ کی آن لائن حفاظت کا 99 فیصد دارومدار محض چند احتیاطوں پر ہے:
• نامعلوم لنکس پر کلک نہ کریں
• آفیشل اسٹورز کے علاوہ کہیں سے ایپ انسٹال نہ کریں
• نامعلوم فائلیں یا اٹیچمنٹ نہ کھولیں

تاہم سب سے بڑا خطرہ وہ ہے جو آپ کے واٹس ایپ اکاؤنٹ کو سوشل انجینئرنگ کے ذریعے ہائی جیک کر سکتا ہے۔ حملہ آور آپ کو دھوکے سے وہ ون ٹائم کوڈ شیئر کرنے پر مجبور کرتا ہے جو صرف آپ کے فون پر استعمال ہونا چاہیے۔

اگر یہ کوڈ ان کے ہاتھ لگ جائے تو وہ چند سیکنڈ میں آپ کا اکاؤنٹ اپنی ڈیوائس پر منتقل کر لیتے ہیں اور پھر اسے واپس لینا آپ کے لیے ایک مشکل جنگ بن جاتا ہے۔

Related Posts