وزیر اعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں صوبائی حکومت نے حال ہی میں پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی پبلک سیفٹی ایپ کی ایک ایسی اپ ڈیٹ جاری کی ہے جو ایک نئے فیچر کے طور پر شہریوں کیلئے ڈراؤنا خواب بھی ثابت ہوسکتی ہے۔
حال ہی میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عوامی سیفٹی ایپ شہریوں کے موبائل فونز کو نگرانی کے آلات مین بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، جس کے نتیجے میں شہریوں کو پرائیویسی کے شدید تحفظات رہیں گے اور پرائیویسی کے سنگین مسائل بھی جنم لے سکتے ہیں۔
مذکورہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پبلک سیفٹی ایپ کے تحت شہری ہنگامی حالات میں اپنے موبائل فون کے کیمرے سے لائیو ویڈیو سیف سٹی کے کنٹرول روم کو ارسال کرسکتے ہیں اور جب کوئی شخص ہیلپ لائن 15 پر کال کرتا ہے تو اسے ایک خاص لائیو فیڈ لنک موصول ہوتا ہے جسے کھولتے ہی فون کا کیمرہ حکام کو لائیو ویڈیو دکھانا شروع کردیتا ہے۔
یہ فیچر مبینہ طور پر واٹس ایپ کی ویڈیو کال کی طرح کام کرتا ہے جو عوام پولیس کو نہیں بلکہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہی کرنا چاہیں گے، تاہم حکام کا دعویٰ ہے کہ اس فیچر کی مدد سے واقعات کی فوری تصدیق اور عوام کو مدد کی فراہمی تیز تر کرنے میں مدد ملے گی۔
ایک جانب تو یہ فیچر ہنگامی حالات میں شہریوں کی جان بچانے سمیت دیگر ہنگامی اقدامات کیلئے اہمیت کا حامل ہے تو دوسری جانب آئی ٹی ماہرین اس فیچر کو عوامی پرائیویسی کیلئے ڈراؤنا خواب قرار دیتے ہیں کیونکہ لائیو فیڈ لنک کا فیچر نہ جاننے والے شہری اس لنک کو بے خیالی میں کھول کر اپنی یا اپنے عزیزوں کی ایسی ویڈیو بھی شیئر کر بیٹھیں گے جو دکھانا نامناسب ہو۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ یہ فیچر بڑے پیمانے پر عوامی نگرانی، غلط استعمال اور ذاتی پرائیویسی کی خلاف ورزی کیلئے آسانی سے استعمال ہوسکتا ہے اور ایک ایسے ملک میں جہاں پہلے ہی ٹریفک اور نگرانی کے کیمروں کی فوٹیج لیک ہو کر سوشل میڈیا پر نشر ہوتی رہی ہو، وہاں ہر شخص کو موبائل سیف سٹی کیمرہ بنا دینا خطرے کو کئی گنا بڑھانے کا باعث بن سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








