انگریز سرکار کے دور کے گٹر باغیچے کی ایک ہزار ایکڑ سے زائدا راضی میں سے بچی کچھی صرف 455 ایکڑ کے لگ بھگ اراضی پر اگر شہریوں کی آکسیجن اور خوراک کے لیے فوری طور پر سبزہ اگانے کا منصوبہ نہ بنایا تو شہریوں کی صحت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
شہر قائد جس کی آبادی 3 کروڑ ہو چکی ہے اور یہاں صنعتوں اور ٹرانسپورٹ کے دھوئیں کے باعث سانس لینے میں دشواری کے ساتھ تازہ سبزیوں اور پھلوں کی شدید کمی ہے ، اس حوالے سے انگریز سرکار کی 1800 ویں صدی میں کی گئی منصوبہ بندی کو تیزی سے برباد کیا جا رہا ہے۔
انگریز کراچی کے مستقبل کےلیے 1800 ویں صدی میں جو منصوبہ بندی کر گئے تھے ، آنے والے پاکستانی حکمرانوں نے اسے برباد کر کے شہریوں کی مفاد کے لیے بنائے گئے منصوبے خاک میں ملا دیے۔
ہندوستان پر برطانوی راج کے دوران کراچی کے بہتر موسم ، تازہ سبزیوں اور پھلوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اب سے 129 سال قبل 1892 میں ایک وسیع رقبہ1016.76 ایکڑاس دور کی بلدیہ عظمیٰ کراچی کے حوالے کیا تھا۔
قیام پاکستان تک اس اراضی کے کافی حصوں پر سبزہ موجود رہا تاہم اس کے بعد حکمرانوں نے اپنے زاتی اور سیاسی مفادات کے لیے اس پر قبضے کروائے۔
پلاٹوں کی فروخت جاری رہی اور حکومتیں خاموش تماشائی بنی رہیں۔ آج بامشکل اس اراضی نمبر ، K 28/108 پر جو رقبہ یعنی 1016.76ایکڑمختص کر کے کے ایم سی کے حوالے کیا گیا تھا اس میں سے اب بمشکل 455ایکڑ گٹر باگیچہ باقی بچا ہے۔
اس وسیع اراضی کو مال مفت کی طرح لوٹ مار کر کے شہریوں کی ضرورت کو پس پشت ڈال دیا گیا ، اس قبضے میں شہر میں سیاست کرنے والی سیاسی جماعتوں اور اس علاقے کے قریب اپنا اثر رسوخ رکھنے والی تنظیموں ، لینڈ مافیا، اور دیگر طاقتور گروپوں نے اس کی ایسی بندر بانٹ کی کہ اس کے تین حصوں میں سے صرف ایک حصہ بچا ہے تاہم اب بھی حکمرانوں کی اس پر بری نظر ہے۔
عدالتوں کے احکامات پر متعدد مرتبہ گٹر باغیچہ پر نمائشی کاروائیاں کی گئیں اور عدالتوں کو رپورٹ دی گئی کہ کارروائیاں جاری ہیں سب ٹھیک ہو جائے گا، تاہم یہاں دوبارہ قبضے شروع ہو جاتے ہیں اور ہر حکومت کے دور میں قبضہ مافیا ان حکومتوں کی چھتری میںقبضے کر کے کراچی اور اس کے باہر سے آنے والے مکانات کے ضرورت مندوں کو پلاٹ کاٹ کر فروخت کر دیتے ہیں۔
انگریز سرکار نے 1892 میں یہ باغیچہ بلدیہ کراچی کو مفت میں منتقل کیا تھا۔اس دور میں لیاری ندی میں برساتی پانی کےنکاس کے لیے استعمال کیا جاتا تھا ۔ دیگر سیوریج کے نالوں سے آنے والے گندے پانی کو ٹریٹمنٹ کے لئے استعمال کرنا شروع کیا گیا ۔ یہ اس دور کا بہترین سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کہا جا سکتا ہے جسے شون ڈرینج سسٹم کا نام دیا گیا ۔
ٹریٹمنٹ شدہ پانی سے باغ کو سیراب کیا جاتا تھا، جس سے زراعت کی ضرورت پوری کرے کے لیے ، پھل اور سبزی ، جانوروں کا چارہ،اور اناج کی کاشت کی جاتی تھی ، کراچی کے 1969 کے نقشے میں گٹر باغیچہ واضح طور پر ظاہر ہے،تاہم اس کے بعد یہاں آنے والی ہر حکومت کے دور میں سیاست کا لبادہ اوڑھے لینڈ مافیا کے بڑے سرغناوں نے شہریوں کے تازہ پھل ،سبزی اور اناج کے حق سے محروم کردیا ۔
ایک طرف قبضے کر کے سبزہ ختم کیا گیا تو دوسری طرف قیمتی اراضی کے پلاٹ کاٹ کر فروخت کیے اور یہاں آبادی میں اجافہ بھی کیا گیا ۔ اسی مقام پر قبضہ کر کے 70 سال قبل حسرت موہانی کالونی بھی بنائی گئی اور پھر 2008 میںیہاںحسرت موہانی کالونی سے متصل نیو حسرت موہانی کالونی قائم کی گئی تھی۔
اراضی پر قبضے کے ڈیڑھ ماہ بعد پارک کو بچانے کے عوامی دباؤ کے پیش نظر 29 جولائی 2009 کو اس وقت کے میئرمصطفیٰ کمال جو کراچی شہری حکومت کے ناظم کہلاتے تھے انہوں نے سٹی کونسل کے ذریعہ قرارداد نمبر 54 544 منظورکرائی ، جس کے تحت ان افراد کو پلاٹ فراہم کرنا جو مبینہ طور پر بے گھر ہوچکے تھے ۔
گٹر باغیچہ پر قبضے کے خلاف اور اراضی کو قبضے سے بچانے کے لیے باقائدہ تحریک کا آغاز بھی 2008 میں نثار بلوچ نے کیا تھا۔
لینڈ مافیا نے نثار بلوچ کو اپنے راستے سے ہٹانے کے لیےگٹر باغیچہ بچاؤ تحریک کےرہنما نثار بلوچ کو 7 نومبر ، 2009 کولیاری ندی پر قائم لین برج کراسنگ پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا ، جس کے بعد گٹر باغیچہ کی اراضی پر قبضے میں تیزی آگئی تھی اور حکومتی سرپرستی میں سیاسی چھتری تلے گٹر باغیچہ کی لوٹ مار جاری ہے۔
فروری 2020کے ایم سی کی جانب سے عدالتی احکامات پرگٹربا غیچہ پر قبضہ شدہ اراضی کی بازیابی کے لئے رینجرز اور سندھ پولیس سےایک آپریشن کیا ۔ بھاری ہتھیاروں سے اراضی پر قبضہ کرنے والوں کے ایک گروپ نے کے ایم سی آفیسرز ہاؤسنگ سوسائٹی کی 200 ایکڑ اراضی سمیت سیوریج ٹریٹمنٹ نظام کی جگہ پر گٹر باغیچہ کی 162 ایکڑ اراضی پر قبضہ کرلیا ۔ پولیس خاموش تماشائی بنی رہی ۔
کے ایم سی کی جانب سے قبضہ مافیا کے خلاف ایف آئی آر کٹوانے کی کوشش بھی پاک کالونی پولیس نے ناکام بنا دی۔ اس حوالے سے پولیس کا کردار بھی مشکوک رہا ہے ۔ قبضے کے خلاف پولیس کوئی کاروائی کرنے کو تیار نہیںہوتی ہے اور جب عدالتی احکامات آجاتے ہیں تو لینڈ مافیا سے ہوائی فائرنگ کروا کر فرار ہونے کا جواز بنا لیا جاتا ہے۔
گٹر باغیچہ کی بچی کچھی اراضی پر اگر فوری طور پرسبزہ اگانے اور باغبانی کرنے کا منصوبہ شروع نہیں کیا گیا تو شہریوں کو اسی گھٹن کے ماحول میں زندہ رہنا مشکل ہو جائے گا۔