کراچی میں بارشوں کا سلسلہ آج ختم ہونے کا امکان، ہلکی بوندا باندی متوقع

تازہ ترین

تازہ ترین

Light to Moderate Showers Continue in Karachi’s Southern Areas
istock

کراچی: محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ تین روز سے جاری بارشوں کا سسٹم آج شہر سے نکلنے کا امکان ہے تاہم ہلکی بوندا باندی ہوسکتی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ 27 اگست سے سندھ کے مختلف علاقوں بشمول کراچی میں مون سون کا ایک نیا سلسلہ داخل ہوگا جو 30 اگست تک وقفے وقفے سے بارشیں برسائے گا۔

منگل سے شروع ہونے والی بارشوں نے کراچی کو ایک بار پھر مفلوج کر دیا۔ مختلف حادثات، کرنٹ لگنے اور ڈوبنے کے واقعات میں کم از کم 17 افراد جاں بحق ہوگئے۔

شدید بارش نے بجلی، مواصلات اور پروازوں کے نظام کو بھی بری طرح متاثر کیا۔ کئی علاقوں میں گاڑیاں پانی میں بہتی اور مکانات ڈوبتے ہوئے دیکھے گئے۔

جہانگیر روڈ، ٹی ہٹی سے گرو مندر تک، بارش کے چند گھنٹوں میں ہی کھنڈرات کا منظر پیش کرنے لگا جبکہ سڑکوں پر کھڈے بن گئے۔

ایئرپورٹ روڈ، سہراب گوٹھ اور ڈرگ روڈ کے انڈر پاسز پانی میں ڈوبے رہے۔ ملیر ندی میں پانی کی سطح بلند ہونے کے بعد کورنگی کے پُل بھی ٹریفک کے لیے بند کر دیے گئے۔

بارشوں اور بدترین ٹریفک جام کے باعث متعدد نجی اسکولوں نے تعطیل کا اعلان کیا جبکہ کچھ نے آن لائن کلاسز کا انتظام کیا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے تاہم کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

بارشوں نے شہر کے بجلی کے نظام کو بھی مفلوج کر دیا۔ گلستان جوہر، صدر، جوبلی مارکیٹ، مسلم ہاؤسنگ سوسائٹی سمیت کئی علاقوں میں 24 سے 56 گھنٹے تک بجلی بند رہی جس پر شہریوں نے کے الیکٹرک کے خلاف شدید احتجاج کیا۔

پانی اور بجلی کی مسلسل بندش سے خواتین، بچوں اور بزرگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

کے الیکٹرک کے ترجمان کے مطابق شہر کے 2100 میں سے 2000 فیڈرز بحال کر دیے گئے ہیں جبکہ تقریباً 100 فیڈرز پر بحالی کا کام جاری ہے تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ متعدد علاقوں میں اب بھی بجلی بحال نہیں ہوئی۔

پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ حالیہ بارشوں نے ایک بار پھر یہ حقیقت اجاگر کر دی کہ کراچی جیسے بڑے شہر کی بنیادی ڈھانچے کی کمزوریاں اسے معمولی بارش میں بھی مفلوج کر دیتی ہیں۔

یاد رہے کہ 2022 کے مون سون سیلاب میں ملک کا ایک تہائی حصہ زیرِ آب آ گیا تھا اور تقریباً 1700 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

Related Posts