کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں قائم کیفے لٹل کراچی پر چند روز قبل بھتہ مافیا کے حملے کے باوجود اس کے مالکان نے ہار نہ مانی اور ریستوران کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ حملہ 29 ستمبر 2025 کو صبح تقریباً ساڑھے چار بجے کیا گیا، جب لگ بھگ پچاس مسلح افراد نے کیفے پر دھاوا بول دیا، سامان توڑ پھوڑ کیا اور قیمتی اشیاء لوٹ لیں۔
کیفے کے مالکان کے مطابق حملہ سیاسی نوعیت کا تھا اور اس کے پیچھے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) اور ٹاؤن میونسپل کارپوریشن (ٹی ایم سی) کے کرپٹ عناصر کا ہاتھ تھا، جنہوں نے بھتہ طلب کیا تھا، مگر انکار پر یہ کارروائی کی گئی۔
کیفے کی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا گیا کہ گزشتہ رات تقریباً ساڑھے چار بجے کے قریب ہمارے ریستوران پر ایک گروہ نے حملہ کیا، جن کا تعلق کے ایم سی، ٹی ایم سی اور ان کے بااثر ساتھیوں سے تھا۔ انہوں نے ہمارا سامان تباہ کیا اور ہماری روزمرہ کی ضروری اشیاء کا نصف سے زیادہ لوٹ لیا۔
پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ یہ کارروائی بظاہر آپریشن کے نام پر کی گئی، مگر اس علاقے کے دیگر تمام ریستورانوں اور دکانوں کو نہیں چھیڑا گیا۔ صرف کیفے لٹل کراچی کو نشانہ بنایا گیا، جس سے واضح ہے کہ یہ حملہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔
واقعے کے بعد کیفے انتظامیہ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ کرپشن کے آگے ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور ایمانداری کے ساتھ کام جاری رکھیں گے۔ تاہم، حملے کے بعد کیفے کو چند دنوں کے لیے بند کرنا پڑا۔
اچھی خبر یہ ہے کہ عوامی حمایت اور حوصلہ افزائی کے بعد کیفے لٹل کراچی نے اس اتوار کو دوبارہ اپنی خدمات بحال کر دی ہیں۔ انتظامیہ نے محدود وسائل کے ساتھ کام شروع کیا ہے اور اپنے تمام صارفین کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








