نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے پورے سندھ خصوصاً کراچی کے لیے 23 اگست تک شدید بارشوں کی تازہ وارننگ جاری کر دی ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین، میرپور خاص اور سکھر سمیت مختلف شہروں میں آئندہ 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران 50 سے 100 ملی میٹر بارش ہونے کا امکان ہے جس سے شہری سیلاب کے شدید خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کراچی، حیدرآباد، سکھر اور میرپور خاص میں شہری سیلاب جبکہ ٹھٹھہ، بدین، دادو اور جامشورو میں فلیش فلڈز کا امکان موجود ہے۔
دریائے سندھ میں پانی کی سطح بڑھنے اور نکاسی آب کے نظام کے متاثر ہونے سے نشیبی علاقے زیرِ آب آ سکتے ہیں۔ سڑکوں اور ہائی ویز کی بندش کے ساتھ ساتھ بجلی کے طویل تعطل کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارشوں نے ملک بھر میں بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ مختلف حادثات میں 47 افراد جان کی بازی ہار گئے جن میں سب سے زیادہ اموات خیبر پختونخوا میں ریکارڈ کی گئیں جہاں 35 افراد جاں بحق ہوئے۔
پنجاب میں ایک، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں دو، جبکہ آزاد کشمیر میں سات افراد جان سے گئے۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں کم از کم 32 افراد زخمی بھی ہوئے۔
کراچی میں محکمہ موسمیات نے تصدیق کی ہے کہ بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے 23 اگست تک جاری رہے گا۔ بدھ کے روز شہر میں ہلکی اور درمیانی شدت کی بارش ہوئی۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے مطابق منگھوپیر میں 235 ملی میٹر، گلشنِ حدید میں 202 ملی میٹر جبکہ ایئرپورٹ پر 190 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ مجموعی طور پر شہر میں 12 گھنٹوں کے اندر 170 سے 175 ملی میٹر بارش ہوئی۔
مرتضیٰ وہاب نے اعتراف کیا کہ شہر کا نکاسی آب کا نظام اپنی گنجائش سے آٹھ گنا زائد پانی برداشت کرنے پر مجبور ہوا۔
اگرچہ نرسری سمیت بڑے نالوں کو کلیئر کیا گیا تھا لیکن ٹریفک جام کے باعث ایمرجنسی آپریشنز میں شدید رکاوٹ پیش آئی۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ گھروں میں رہیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حکومتی اداروں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ مزید نقصانات سے بچا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








