امریکا: کارٹ ان پروویڈنس پروگرام کے ذریعے دنیا بھر میں شہرت پانے والے جج فرینک کیپریو 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ طویل عرصے سے لبلبے کے کینسر میں مبتلا تھے اور بدھ 20 اگست کو اپنے اہل خانہ کی موجودگی میں دنیا سے رخصت ہوئے۔
فرینک کیپریو پروویڈنس میونسپل کورٹ کے طویل المدتی چیف جج رہے اور ان کا عدالتی شو کارٹ ان پروویڈنس ٹریفک کیسز میں ان کے ہمدردانہ اور مزاحیہ رویے کی وجہ سے عالمی سطح پر مقبول ہوا۔
ان کے فیصلے، جو اکثر انسانیت اور نرمی سے بھرپور ہوتے، یوٹیوب پر وائرل ہوئے اور دنیا بھر میں لاکھوں مداحوں نے انہیں دل سے سراہا۔ ان کا یہ جملہ مشہور ہوا کہ میں اپنے جج کے لباس کے نیچے بیج نہیں پہنتا بلکہ دل پہنتا ہوں۔ اسی وجہ سے وہ امریکا کے سب سے شفیق جج کے نام سے جانے گئے۔
روڈ آئی لینڈ کے گورنر ڈین میکی نے انہیں ریاست کا قیمتی سرمایہ قرار دیتے ہوئے خراجِ عقیدت پیش کیا اور اعلان کیا کہ ان کی تدفین تک ریاست بھر میں پرچم سرنگوں رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جج کیپریو نے عوام کی خدمت کے ساتھ ساتھ انسانیت سے جڑے رہنے کا عملی مظاہرہ کیا اور یہ دکھایا کہ انصاف کے ساتھ نرمی اور ہمدردی کس طرح شامل کی جا سکتی ہے۔
فرینک کیپریو نے دسمبر 2023 میں اپنے کینسر کی تشخیص عوام کے سامنے ظاہر کی اور علاج کے دوران اپنے 17 لاکھ انسٹاگرام فالوورز کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں رہے۔
مشکل وقت کے باوجود ان کی حوصلہ مندی اور امید نے دنیا بھر کے لوگوں کو متاثر کیا۔ معروف گلوکارہ جیول نے بھی ان کی ایک ویڈیو دیکھنے کے بعد کہا کہ وہ خوش ہیں کہ مشکل گھڑی میں انہیں معمولی سا سہارا دے سکیں۔
رواں سال کے آغاز میں انہوں نے اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب کمپیشن ان دی کورٹ شائع کی جس میں انہوں نے اپنی عدالتی زندگی اور ہمدردی پر مبنی فیصلوں کے اثرات کا ذکر کیا۔
فرینک کیپریو اپنے پیچھے ایک ایسی وراثت چھوڑ گئے ہیں جو یہ یاد دلاتی ہے کہ قانون کے ساتھ ساتھ ہمدردی اور انسانیت بھی انصاف کا لازمی جزو ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








