کراچی میں حالیہ بارشوں کے دوران کرنٹ لگنے سے دو سگے بھائیوں کی ہلاکت کے واقعے پر شاہ فیصل کالونی پولیس نے کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید مونس عبداللہ علوی اور دیگر حکام کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
جاں بحق ہونے والوں کی شناخت اسرار خان اور ان کے چھوٹے بھائی سراج خان کے نام سے ہوئی ہے۔
اہل خانہ کے مطابق دونوں بھائی اپنے گھر کے باہر زیرِ زمین موجود کے الیکٹرک کی کھلی تار کے باعث کرنٹ لگنے سے موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
اس واقعے نے علاقے میں خوف اور غم کی فضا قائم کر دی ہے جبکہ متاثرہ خاندان نے کے الیکٹرک حکام کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب شہر میں مسلسل دوسرے روز بھی موسلا دھار بارشوں نے شہری زندگی کو بری طرح متاثر کیا۔ کٹی پہاڑی کے علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ، بڑے پیمانے پر شہری سیلاب، سڑکوں کی بندش اور طویل دورانیے کی بجلی کی بندش نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔
کورنگی انڈسٹریل ایریا روڈ، آئی آئی چندریگر روڈ اور سلطان آباد سمیت اہم شاہراہیں زیرِ آب آنے سے ٹریفک نظام درہم برہم رہا۔
سرجانی ٹاؤن میں سڑکوں پر پانی کھڑا ہونے کے باعث ریسکیو ٹیموں کو مریض کو اسپتال منتقل کرنے کے لیے کشتیوں کا سہارا لینا پڑا۔ شہر کے کئی علاقوں میں 36 گھنٹوں تک بجلی بند رہی جس کے باعث پانی کی شدید قلت بھی پیدا ہو گئی۔
ناظم آباد بلاک بی کے رہائشیوں نے ڈیڑھ روز سے زائد بجلی نہ ملنے پر سڑکوں پر احتجاج کیا اور کے الیکٹرک سے فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔
ٹریفک پولیس کے مطابق کورنگی انڈسٹریل ایریا روڈ کے دونوں ٹریکس اور کورنگی کاز وے برساتی پانی کے باعث بند کر دیے گئے جبکہ شاہراہ فیصل، ناظم آباد نمبر 1 اور 2، سہراب گوٹھ اور شہید ملت کے انڈر پاسز بھی زیرِ آب آ گئے۔ حکام نے شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








