کراچی میں پاکستان رینجرز سندھ اور پولیس نے 40 سال سے قائم افغان بستی کو مسمار کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔رینجرز، پولیس، ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) اور دیگر متعلقہ ادارے اس آپریشن میں شریک ہیں۔
ذرائع کے مطابق رینجرز نے افغان بستی کے تمام داخلی و خارجی راستے بند کر دیے ہیں جبکہ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق یہ بستی ماضی میں تقریباً 30 ہزار افغان باشندوں پر مشتمل تھی جنہیں تین مراحل میں منتقل کیا گیا۔ اس وقت بھی تقریباً دو ہزار کے قریب افراد وہاں موجود ہیں۔
ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کے مطابق بستی کے کچھ خالی مکانات غیر قانونی طور پر قبضے میں لے لیے گئے تھے جس کے باعث فوری کارروائی ناگزیر ہو گئی۔
انہوں نے بتایا کہ آپریشن مکمل ہونے کے بعد زمین خالی کروا کر ایم ڈی اے کے حوالے کر دی جائے گی۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت پہلے ہی خیبرپختونخوا میں تمام افغان کیمپوں کے فوری انخلا کا حکم دے چکی ہے۔
صوبے میں طویل عرصے سے قائم یہ کیمپ اب بند کیے جا رہے ہیں، جن میں ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت، بنوں، مانسہرہ، چارسدہ اور مالاکنڈ شامل ہیں۔
وفاقی حکام نے صوبائی حکومتوں کو بند کیے گئے کیمپوں کی زمین اپنے قبضے میں لینے کی ہدایت دی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








