کراچی کے ایک سرکاری اسپتال میں ایک سنگین طبی غفلت کا واقعہ سامنے آیا ہے جس کے نتیجے میں 84 مریضوں کو ایچ آئی وی (ایڈز) کا مرض لگ گیا۔ یہ واقعہ کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں پیش آیا جہاں گزشتہ برس آنے والے مریضوں کو استعمال شدہ یا غیر محفوظ سرنجوں سے انجکشن لگائے گئے۔
نجی ٹی وی چینل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ متاثرہ افراد مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے اسپتال آئے تھے اور انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ سرنجیں دوبارہ استعمال کی جا رہی ہیں۔ جب اسپتال انتظامیہ کو اس کی اطلاع ملی تو ان مریضوں کو فوری طور پر تلاش کیا گیا اور انہیں دیگر اسپتالوں میں منتقل کر کے علاج شروع کروایا گیا۔
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کو بتایا کہ اس غلطی کی وجہ سے 84 افراد (بشمول بچے اور بزرگ) متاثر ہوئے۔ جیسے ہی معاملہ سامنے آیا ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز کو موقع پر بھیجا گیا۔ تمام متاثرین کو ٹریس کر کے ان کے ٹیسٹ کیے گئے اور اب انہیں اینٹی ریٹرو وائرل ادویات مفت فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ مرض کو کنٹرول میں رکھا جا سکے۔
وفاقی صحت وزیر نے مزید بتایا کہ نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت ہر مریض پر سالانہ تقریباً 300 سے 500 امریکی ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ ایڈز ایک سنگین اور اب تک لاعلاج مرض ہے جو خون کے ذریعے، غیر محفوظ جنسی تعلقات، استعمال شدہ سرنجوں، غیر جراثیم کش آلات اور دیگر ذرائع سے پھیلتا ہے۔
یہ واقعہ پاکستان میں صحت کے نظام میں انفیکشن کنٹرول کی کمی اور غیر محفوظ طبی طریقہ کار کی ایک اور مثال ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور اس طرح کی غفلت کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








