کراچی کے علاقے گلشن معمار کے قریب واقع خالی کی گئی افغان بستی میں حالیہ دنوں میں چوریوں اور جرائم کی وارداتوں میں تیزی آگئی ہے۔
یہ وہی علاقہ ہے جہاں سے ہزاروں افغان مہاجرین پاکستان میں غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلا مہم کے دوران واپس افغانستان جا چکے ہیں۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق افغان کیمپ کے خالی ہونے کے بعد اب وہاں چوروں کے منظم گروہ سرگرم ہیں جو مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کی سرپرستی میں قیمتی سامان لوٹنے میں مصروف ہیں۔
رہائشیوں نے بتایا کہ کچھ روز قبل انہوں نے چوروں کے ایک گروہ کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا، جو خالی گھروں سے پیتل، تانبہ اور لوہے کی سلاخیں چوری کر کے ایک گاڑی میں لوڈ کر رہے تھے۔
شہریوں نے انہیں پولیس کے حوالے کر دیا تاہم مبینہ طور پر ملزمان کو کچھ ہی دیر بعد رہا کر دیا گیا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ گروہ افغان کیمپ پولیس چیک پوسٹ کے انچارج سے منسلک ایک مخصوص پارٹی سے تعلق رکھتا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ چوروں کو اس لیے رہا کیا گیا کہ کسی نے ان کے خلاف باضابطہ مقدمہ درج نہیں کرایا۔ پولیس کے مطابق برآمد ہونے والا مسروقہ سامان اب بھی پولیس کی تحویل میں موجود ہے۔
کراچی پولیس نے غیر قانونی قبضے سے بچنے کے لیے افغان کیمپ میں واقع سیکڑوں خالی گھروں کو مسمار کرنے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔
مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ دن کے وقت تو انسدادِ تجاوزات آپریشن کیا جاتا ہے، مگر رات کے اندھیرے میں چوریوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کی جانب سے ایڈیشنل آئی جی کراچی کو جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ افغان باشندوں کی واپسی سے قبل کیمپ میں تقریباً 15 ہزار 680 افغان شہری مقیم تھے، جن میں سے 14 ہزار 296 افراد واپس افغانستان جا چکے ہیں جبکہ 1 ہزار 384 افراد اب بھی علاقے میں موجود ہیں اور انہیں بھی بتدریج واپس بھیجا جا رہا ہے۔
ڈی آئی جی عرفان بلوچ نے انتباہ کیا کہ کیمپ کے خالی ہونے کے بعد کراچی کی لینڈ مافیا اور جرائم پیشہ عناصر نے وہاں غیر قانونی قبضے کی کوششیں شروع کر دی ہیں، جنہیں روکنے کے لیے پولیس کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








