دہلی: مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام اور حریت رہنماؤں پر بھارت کا ظلم و ستم جاری ہے۔ کشمیری حریت رہنما الطاف حسین شاہ جبری حراست کے دوران شہید ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے حریت رہنما الطاف حسین شاہ کو دلی کی تہاڑ جیل میں قید کیا گیا تھا۔ رواں ماہ کے آغاز میں ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ الطاف شاہ کا دل اور گردے کام نہیں کررہے۔ صرف دماغ فعال ہے۔
پاک بحریہ کے جہازوں کا کویت، عراق اور بحرین کا دورہ
بھارتی فورسز نے الطاف حسین شاہ کو آج سے 5سال قبل 2017 میں گرفتار کیا۔ حریت رہنماؤں کو بھارت کی نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے دہشت گردوں کی مالی معاونت کے بے بنیاد الزامات کے تحت گرفتار کیا۔
حریت رہنما الطاف حسین شاہ پر بھی دہشت گردوں کی اعانت اور تشدد کی حمایت جیسے بے بنیاد الزامات لگائے گئے۔ اکتوبر کے آغاز میں 65سالہ الطاف شاہ کی طبیعت انتہائی ناساز ہوگئی جنہیں ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔
ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ الطاف حسین شاہ کے جسم میں سرطان تیزی سے پھیل رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کے اہم اعضاء نے کام چھوڑ دیا۔ حریت رہنما کی صاحبزادی رُوا کا کہنا تھا کہ جیل حکام نے میرے والد کی صحت کے متعلق کینسر پھیلنے سے قبل آگہی نہیں دی۔
کشمیر لیگل فورم کا کہنا ہے کہ سید علی شاہ گیلانی کے داماد الطاف حسین شاہ کو بھارتی حراست میں شہید کیا گیا۔ کینسر کی تشخیص کے بعد بھی انہیں طبی علاج مہیا نہیں کیا گیا اور جب سرطان آخری اسٹیج پر جا پہنچا تو علاج تک جزوی رسائی دی گئی۔ یہ بھارتی حراست میں حریت رہنما کا قتل ہے۔
https://twitter.com/LFKashmir/status/1579729786582503424
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








