قصور کے علاقے چونیاں میں ایک نابالغ بچی سے زیادتی کا ملزم پولیس سے مقابلے میں نازک عضو میں گولیاں لگنے سے زخمی ہوگیا۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مبینہ زیادتی کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا جس کے بعد عوامی غم و غصہ پھیل گیا۔
تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے پھیلی جس میں ظہیر آباد کالونی چونیاں کا ایک شخص ایک 10 سالہ بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی ملزم کو بچی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جب وہ گلی میں کھیل رہی تھی۔
وائرل ویڈیو کے بعد بچی کے والدین نے چونیاں پولیس کے خلاف شکایت درج کرائی، جس کے بعد ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔
پولیس کے ترجمان کے مطابق، ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے گئے۔ دورانِ کارروائی، ملزم نے پولیس اہلکاروں پر اپنی پستول سے فائر کیا اور مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔ جوابی کارروائی میں ہونے والے مبینہ مقابلے میں ملزم کے نازک عضو میں گولیاں لگنے سے وہ شدید زخمی ہوگیا۔
زخمی حالت میں اسے فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ پولیس کے مطابق، ملزم اسی محلے کا رہائشی ہے، جس کی عمر تقریباً 27 سے 28 سال ہے، اور وہ شادی شدہ ہے جبکہ اس کی ایک بیٹی بھی ہے۔
یہ صوبہ پنجاب میں ایک ماہ کے اندر پیش آنے والا دوسرا ایسا واقعہ ہے جہاں زیادتی کے ملزم کو پولیس مقابلے میں نازک عضو میں گولی لگنے سے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اس سے قبل گزشتہ ماہ شاہ عنایت کالونی میں ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ زیادتی کے ایک ویڈیو وائرل ہونے پر بھی ملزم کو اسی طرح زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا تھا۔
پولیس کا موقف تھا کہ گرفتاری کے دوران ملزم نے فرار ہونے کی کوشش کی اور پستول نکالنے کی کوشش میں گولی چل گئی۔
سوشل میڈیا پر یہ واقعہ شدید تنقید اور غم و غصے کا باعث بنا ہے۔ صارفین نے نابالغ بچوں کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








