کراچی میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایک بڑے دہشت گرد نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا گیا ہے جو کراچی سمیت ملک کے دیگر شہروں میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔
یہ انکشاف ہفتے کے روز انسداد دہشت گردی محکمے (سی ٹی ڈی) سندھ اور وفاقی خفیہ اداروں کی مشترکہ کارروائی کے بعد سامنے آیا۔

کراچی میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ آزاد خان اور ڈی آئی جی کیپٹن (ریٹائرڈ) غلام اظفر مہیسر نے بتایا کہ یہ کارروائی ایک منظم تفتیشی عمل کا نتیجہ ہے۔
آزاد خان کے مطابق بدین کے رہائشی 45 سالہ عبد الرحمن کے قتل کی تحقیقات کے دوران یہ سلسلہ کھلا۔ عبد الرحمن کو 18 مئی کو ماتلی میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے دوران ہمیں شواہد ملے کہ اس واردات میں بھارتی خفیہ ایجنسی را براہِ راست ملوث ہے۔ را پاکستان میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے لیے بھاری فنڈنگ فراہم کرتی رہی ہے۔
ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ عبد الرحمن کے قتل کی منصوبہ بندی ایک بھارتی ایجنٹ سنجے سنجیو کمار عرف فوجی نے کی جو مبینہ طور پر ایک خلیجی ملک سے یہ نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ اس نے اس مقصد کے لیے شیخوپورہ کے رہائشی سلمان کو بطور ٹارگٹ کلر استعمال کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ گرفتار ملزمان سے حاصل ہونے والے شواہد نہ صرف را کی پاکستان میں سرگرمیوں کو بے نقاب کرتے ہیں بلکہ اس کے دیگر سہولت کاروں تک پہنچنے میں بھی مدد فراہم کر رہے ہیں۔
سی ٹی ڈی حکام نے تصدیق کی کہ ملزمان کے سفری ریکارڈ بھی ان کے قبضے میں ہیں جبکہ مزید تفتیش جاری ہے تاکہ نیٹ ورک کے دیگر اراکین اور مقامی سہولت کاروں کا سراغ لگایا جا سکے۔

حکام نے واضح کیا کہ یہ کامیابی ملک دشمن عناصر کے خلاف ایک بڑی پیش رفت ہے اور مستقبل میں بھی ایسی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی تاکہ پاکستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








