کراچی میں بجلی کے بلوں کے ذریعے میونسپل ٹیکس کی وصولی کے معاملے نے نیا قانونی رخ اختیار کر لیا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست کی سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) اب تک شہریوں سے بجلی کے بلوں کے ذریعے 2اعشاریہ 64 ارب روپے کا میونسپل ٹیکس وصول کر چکی ہے۔
درخواست گزار کے مطابق یہ ٹیکس کے الیکٹرک کے بلوں میں شامل کر کے شہریوں سے وصول کیا جا رہا ہے جس کی قانونی حیثیت متنازع ہے۔
وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ صرف سرکاری ادارے ہی ٹیکس وصول کرنے کے مجاز ہیں، کسی بھی نجی یا تیسرے فریق کو عوام سے محصولات وصول کرنے کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔
درخواست گزار نے مزید کہا کہ کے ایم سی کی جانب سے نافذ کردہ میونسپل یوٹیلیٹی چارجز اینڈ ٹیکسز کا اطلاق سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2013 کی صریح خلاف ورزی ہے کیونکہ اس قانون کے تحت کسی بھی بل میں اضافی چارجز یا ٹیکس شامل کرنے کے لیے واضح قانونی اجازت درکار ہوتی ہے۔
وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بھی کے ایم سی ٹیکس کو کے الیکٹرک کے ذریعے وصول کرنے کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔
ان کے مطابق میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے عدالت کے 29 مئی 2024 کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس عمل کو جاری رکھا ہے، جس سے شہریوں پر اضافی مالی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔ شہریوں کی بڑی تعداد نے بھی اس ٹیکس کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی بلوں میں ایسے غیر شفاف چارجز شامل نہ کیے جائیں جن کی کوئی قانونی توثیق موجود نہ ہو۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








