محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) لاہور نے یوٹیوبر حافظ سعد الرحمٰن کو کالعدم اور دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے مبینہ وابستگی، ممبرشپ کارڈ رکھنے اور مبینہ طور پر لوگوں کو القاعدہ میں بھرتی کرنے کے الزامات میں گرفتار کرلیاہے۔
تفصیلات کے مطابق حافظ سعد الرحمٰن کے اہل خانہ نے مقدمے کو بدنیتی پر مبنی قرار دے دیا۔ سی ٹی ڈی نے واقعے کی ایف آئی آر بھی درج کرلی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزم کے بیگ سے اسامہ بن لادن سے متعلق کتاب کے 5 نسخے برامد ہوئے تھے جنہیں سی ٹی ڈی ممنوعہ قرار دے چکی تھی۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق یوٹیوبر کے قبضے سے القاعدہ کا مبینہ ممبرشپ کارڈ بھی برآمد کیا گیا جبکہ ان کی گرفتاری ایک مخبر کی دی گئی اطلاع پر عمل میں لائی گئی، واقعے کی ایف آئی آر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے تعلق رکھنے والے 31سالہ یوٹیوبر حافظ سعد کو عوام کی بڑی تعداد کانٹینٹ کرئیٹر کی حیثیت سے جانتی ہے جنہیں ایک اکیڈمک اسکالر اور ریسرچر ہیں سمجھا جاتا ہے جو تحقیقاتی صحافی کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق سعد نے گذشتہ برس گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم فل کی تعلیم حاصل کی اور وہ گذشتہ 2 سال سے ایون یوٹیوب چینل کے ساتھ بطور ریسرچر اور کانٹنٹ سٹریٹیجسٹ کے طور پر کام کر رہے تھے جنہیں 26اور 27اپریل کی درمیانی شب گرفتار کیا گیا۔
دلچسپ طور پر حافظ سعد الرحمٰن کو سی ٹی ڈی نے پہلی بار گرفتار نہیں کیا بلکہ ان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ حافظ سعد ریاست کے کچھ افراد کے ساتھ بطور کانٹینٹ سٹریٹیجسٹ کام کر رہے تھے، جن کے کانٹینٹ کا تعلق کشمیر سے تھا۔ انہیں 3 سال قبل بھی سی ٹی ڈی نے دیگر افراد کے ساتھ حراست میں لے لیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








