حکومت نے امپورٹڈ استعمال شدہ (لنڈے کے) کپڑوں پر فی کلو 200 روپے کا نیا ٹیکس نافذ کر دیا ہے۔
اسٹارٹ اپ پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد مقامی ٹیکسٹائل صنعت کو فروغ دینا اور قومی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔
یہ نیا ٹیکس اگرچہ مقامی صنعت کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے، لیکن فوری طور پر عوام اور تاجروں پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے، خصوصاً ان لوگوں پر جو ملک کے مشہور ’’لنڈا بازاروں‘‘ پر انحصار کرتے ہیں، یہ وہ بازار ہیں جہاں عام شہری کم قیمت پر استعمال شدہ کپڑے خریدتے ہیں۔
درآمد کنندگان اور تاجر خبردار کر رہے ہیں کہ اس ٹیکس سے استعمال شدہ کپڑوں کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوگا، جس کے بعد غریب اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے ان کپڑوں کا حصول مشکل ہوجائے گا۔
ایک تاجر نے کہا کہ یہ فیصلہ چھوٹے دکانداروں اور غریب عوام، دونوں کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ لوگ لنڈا بازار اس لیے آتے ہیں کہ وہ نئے کپڑے خریدنے کی سکت نہیں رکھتے، اب پرانے کپڑے بھی ان کی پہنچ سے دور ہو جائیں گے۔
کئی تاجروں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی قیمتیں ان کے کاروبار پر منفی اثر ڈالیں گی کیونکہ گاہک کم ہوجائیں گے۔
سرکاری حکام کے مطابق یہ پالیسی مقامی صنعت کو تحفظ دینے، درآمدی انحصار کم کرنے اور موجودہ معاشی مشکلات میں آمدنی بڑھانے کے لیے بنائی گئی ہے۔
یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ یہ نیا ٹیکس عملی طور پر کس طرح اثر انداز ہوگا، کیونکہ آئندہ ہفتوں میں درآمد کنندگان قیمتوں میں رد و بدل کریں گے اور عوام بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ردعمل ظاہر کریں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








