وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ افغانستان میں کوئی فریق پاکستان کا پسندیدہ نہیں ہے، ملک میں عوامی حمایت پربننےوالی حکومت سے تعاون کریں گے،ان کا کہنا ہے کہ افغانستان سےمتعلق پیش گوئیاں اور اندازے غلط ثابت ہوئے،افغانستان کو تنہا چھوڑا گیا تو خانہ جنگی جیسے بحران کے خطرات ہیں۔
برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب نے پاکستان کا دو روزہ دورہ کیا جس میں سیاسی وعسکری قیادت سے ملاقات کی، برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خطے میں پاکستان کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے، امید کرتے ہیں کہ طالبان افغانستان میں امن و استحکام لائیں گے ، افغانستان کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد جاری رکھیں گے۔
اس وقت پوری دنیا کی نظریں افغانستان پر لگی ہیں کہ امارتِ اسلامیہ (افغانستان) کی نئی حکومت کیا پالیسیاں نافذ کرے گی جبکہ موجودہ حالات کے تناظر میں پاکستان انتہائی اہمیت اختیار کرچکا ہے کیونکہ اقوام عالم کی رائے میں طالبان قیادت پاکستان کے زیر اثر ہے اور پاکستان طالبان پر اثر و رسوخ کی وجہ سے پوری دنیا کیلئے مرکز نگاہ بن گیا ہے جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ طالبان پر اثرو رسوخ ہے لیکن کنٹرول نہیں ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ طالبان ایک بھرپور سیاسی قوت کے طور پر ابھر کر عالمی منظر نامہ پر نمودار ہوئے ہیں جبکہ اہم بات تو یہ ہے کہ امن معاہدے میں پاکستان کی کاوشوں کے بعد یہ ضرور ہے کہ افغان طالبان پاکستان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ طالبان کسی کی ڈکٹیشن نہیں لیتے، نہ کسی اور کی مرضی کے مطابق چلنا پسند کرتے ہیں۔
اس وقت دنیا کے طاقتور ممالک بشمول امریکا طالبان کو سیاسی قوت تسلیم کرنے کے حوالے سے شش و پنج کا شکار ہیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ امریکا طالبان معاہدے کے بعد اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تمام ممبران کی جانب سے افغان طالبان کو سیاسی تحریک تصور کرنا ایک قانونی ولازمی امرہے کیونکہ اس معاہدے کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت رجسٹر کرایا گیا۔
اب طالبان کو سیاسی قوت تسلیم کرنے میں اقوام عالم کو صرف بنیادی انسانی حقوق یا خواتین سے غیر انسانی سلوک پرپریشانی کا سامنا ہوسکتا ہے لیکن طالبان نے یہ بھی عندیہ دیدیا ہے کہ خواتین کی تعلیم یا بنیادی انسانی حقوق پر کوئی قدغن نہیں لگائی جائیگی جبکہ گزشتہ چند روز کے دوران افغانستان میں خواتین نے اپنے حقوق کے تحفظ کے مطالبات پیش کرنے کیلئے مظاہرے بھی کئے اور اہم بات تو یہ ہے کہ طالبان نے ان مظاہروں کو روکنے کیلئے طاقت کے استعمال سے گریز کرتے ہوئے سیاسی بالیدگی کا ثبوت دیا ہے۔
پاکستان امن معاہدے سے پہلے اور بعد میں بھی افغانستان میں قیام امن کیلئے کوششیں کرتا رہا ہے اور اب حکومت پاکستان اقوام عالم کو افغانستان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کیلئے قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اگر افغانستان میں کشت و خون جاری رہتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہی ہوگا۔اسی بنیاد پر پاکستان ہمیشہ افغانستان میں امن و استحکام کا حامی رہا ہے۔
اب جب افغانستان میں نئی حکومت کا قیام عمل میں آنے والا ہے تو دنیا نے پاکستان سے رابطے تیز کردیئے ہیں تاہم پاکستان کا موقف درست ہے کہ افغانستان کو تنہا چھوڑنا زیادہ خطرناک ہوگا کیونکہ اقوام عالم کی طرف سے رخ پھیرنے کی وجہ سے طالبان کسی بھی کام کیلئے آزاد ہونگے لیکن اگر دنیا طالبا ن کے ساتھ تعلقات قائم کرکے ایک توازن بناتی ہے تو اس سے طالبان کو عالمی قوانین کے تحت ایک دائرے تک محدود رکھا جاسکتا ہے۔