میئر کراچی کے انتخاب کا مرحلہ بحسن و خوبی طے ہوا۔ جو نتیجہ نکلا ہے وہ ہماری دلی خواہش تھا۔ کیونکہ پچھلے چند سالوں کے دوران ہم نے 1985ء کے بعد پہلی بار پیپلز پارٹی کو کراچی کی طرف متوجہ پایا ہے۔
اس جماعت کا اگلا ٹارگٹ اب اس شہر کے ووٹر کو متاثر کرکے قومی اور صوبائی سیٹوں کا حصول ہوگا۔ اور یہ ٹارگٹ یہ صرف بلدیاتی حکومت کی کارکردگی سے حاصل کر سکتی ہے۔ جبکہ اس ضمن میں بطور اپوزیشن حافظ نعیم الرحمن سے بہتر کوئی نہیں ہوسکتا۔ وہ اپنی انا کے معاملے میں بہت حساس ہیں۔ سو وہ مرتضی وہاب کے کسی ممکنہ زعفران کو گوبر ثابت کرنے کے لئے آخری حد تک جائیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مرتضی وہاب کو زعفران اس اعلی کوالٹی کا رکھنا ہوگا کہ اسے زعفران ثابت کرنے کے لئے دلیل نہیں محض مشاہدہ ہی کافی ہو۔ یوں گویا حافظ نعیم الرحمن کا واویلا بھی اہل کراچی کے حق میں جائے گا۔
جماعت اسلامی کراچی بار بار نعمت اللہ خان مرحوم کے دور کا حوالہ دیتی ہے۔ ظاہر ہے یہ حوالہ ان کے لئے بہت کشش رکھتا ہے جو 90 کی دہائی کے شروع میں پیدا ہوئے ہیں۔ مگر ہم تو 1969 کی پیداوار ہیں ۔ سو ہمیں عبدالستار افغانی کا دور بھی اچھی طرح یاد ہے۔ اور وہ یادیں کسی طور بھی خوشگوار نہیں، اگرچہ افغانی صاحب خود ساختہ “بابائے کراچی” بنے بیٹھے تھے۔
حافظ نعیم الرحمن کو ہمارا مفت مشورہ ہے کہ اپنے اندر دو تبدیلیاں لائیں۔ پہلا یہ کہ شہر کے لونڈوں ولا لہجہ ترک کرکے سیاسی رہنماؤں والا متانت سے بھرپور لہجہ اختیار کریں۔ ان کا لہجہ ایک غنڈے کا لہجہ ہے۔ اس طرح کا لہجہ 35 سال سے کم عمر والوں کے لئے پرکشش ہوتا ہے مگر باشعور لوگ اسے پسند نہیں کرتے۔ لوگوں کے جذبات نہیں ان کے شعور کو اپیل کیجئے۔ دوسرا مشورہ یہ کہ شہر کے اصل مسائل کی جانب توجہ دیجئے اور پورے تسلسل سے دیجئے۔ آپ کی پالیسی پچھلے سالوں میں یہ دیکھی ہے کہ آپ کسی ایک ایشو کے پیچھے پڑ کر اسے صرف اس وقت تک روزانہ کی بنیاد پر اچھالتے ہیں جب تک وہ پروپیگنڈے کے لئے کار آمد ہوتا ہے۔
جوں ہی آپ دیکھتے ہیں اب یہ ایشو ٹھنڈا پڑنے لگا ہے تو چپکے سے پتلی گلی سے کسی اور ایشو کی طرف نکل جاتے ہیں۔ بحریہ ٹاؤن اور کے الیکٹرک اس کی سب سے بڑی دو مثالیں ہیں۔ مسئلے دونوں اب بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ مگر حافظ نعیم الرحمن ان سے لاتعلق۔ کیونکہ حافظ صاحب کو تو صرف وقتی پروپیگنڈا کشید کرنا تھا جو ہوچکا۔
اس شہر کا سب سے بڑا مسئلہ تعلیم ہے۔ یہ شہر کسی زمانے میں پاکستان کا سب سے زیادہ پڑھا لکھا شہر کہلاتا تھا۔ اب یہاں پچھلے 30 سالوں کے دوران جو نسل پروان چڑھی ہے وہ نصابی تعلیم اور شعور دونوں سے فارغ ہے۔ اب یہاں بڑی کمپنیاں ملازمت کے لئے اولین ترجیح انہیں دیتی ہیں جن کی تعلیمی ڈگری کراچی سے باہر کی ہو۔ بالخصوص پنجاب یا اسلام آباد کی ہو۔
کراچی کے صرف اس نوجوان کو ترجیح حاصل ہوتی ہے جس نے تعلیم شہر کے نان مہاجر علاقے کی درسگاہ سے حاصل کی ہو۔ جو بات ہم اب کہنے جا رہے ہیں اس پر کراچی کی اردو اسپیکنگ کمیونٹی کو ٹھنڈے دل سے غور کرنا ہوگا۔ اگر وہ یہ زحمت گوارا کریں گے انہیں اندازہ ہوجائے گا کہ”منزل نہیں رہنما چاہئے” کے نعرے نے انہیں کس تباہی سے دوچار کیا ہے۔ اور اس موقع کا کتنا بھرپور فائدہ کراچی کے پختوں رکشہ ڈرائیوروں اور چوکیداروں نے اٹھایا ہے۔
80 کی دہائی تک صورتحال یہ تھی کہ پختون باشندہ خیبر پختون خوا سے آتا اور اس شہر میں تین چار کاموں میں سے ایک کام بطور پیشہ اختیار کرلیتا۔ یا تو وہ رکشہ ٹیکسی چلانا شروع کرتا۔ یا کسی سیٹھ کا ذاتی ڈرائیور بن جاتا ۔ یا کسی بنگلے فیکٹری پر چوکیدار لگ جاتا۔ اور یا کراچی کے بڑے بڑے گوداموں میں وزن ڈھونے کے پیشے سے جڑ جاتا۔ اپنے بچے کو لڑکپن میں کسی سیٹھ کے گھر پر گھریلو کام کاج کے لئے رکھوا لیتا۔ اور جوان ہونے پر اسے اپنا رکشہ سونپ کر خود ریٹائرمنٹ لے کر گاؤں لوٹ جاتا۔
جب الطاف حسین نمودار ہوئے اور انہوں نے اپنی نہایت قابل نسل کے ہاتھ سے کتاب چھین کر ٹی ٹی پکڑا دی تو اردو اسپیکنگ علاقوں کی درسگاہیں تیزی سے اجڑتی چلی گئیں۔ اس صورتحال کو کراچی کا پختون رکشہ ڈرائیور بغور دیکھ رہا تھا۔ چنانچہ چند ہی سالوں میں پختون بچے پہلے اسکول، پھر کالج، اور وہاں یونیورسٹی جا پہنچے۔ اب آج کی تاریخ میں شہر کا منظر نامہ یہ ہے کہ شہر میں پختون رکشہ ڈرائیور بمشکل ہی نظر آتا ہے۔ اب مہاجر لڑکے چنگچی چلا رہے ہیں اور پختون رکشہ ڈرائیور کا بیٹا کسی ملٹی نیشنل کمپنی کا ٹھنڈا آفس انجوائے کر رہا ہے۔ الطاف حسین نے اپنی ایک پوری نسل تباہ کرکے رکھدی اور اب بھی ایسے بدنصیب جا بجا نظر آجاتے ہیں جو چائے خانوں میں چسکی لے کر کہتے ہیں:
“۔دیکھ لینا، الطاف بھائی کے عروج کا دور پھر آئے گا”
وہ شخص اس شہر کا سب سے بڑا محسن ہوگا جو اس کے تعلیمی نظام پر ہاتھ ڈالے گا۔ جو یہاں کے تعلیمی اداروں کو پھر سے آباد کرے گا۔ جو مہاجر بچے کو تعلیم میں عظمت کا اصول سمجھائے گا۔ جو اسے سمجھائے گا تم نے اپنا سفر پھر سے وہیں سے شروع کرنا ہے جہاں سے اس کا تسلسل ٹوٹا تھا۔ جو نسل ضائع ہوگئی وہی اب اگلی نسل کو سمجھائے کہ بیٹا! ہماری نہیں اپنے دادا جی کی تقلید کرنا۔ وہ دادا جی جو ہندوستانی مسلمانوں کی اعلی ترین تہذیب و ثقافت کے امین تھے۔ جن کا شعور اتنا اعلی درجے کا تھا کہ ہجرت کی منزل پر ان کی پہلی رہائش گاہ ایک جھونپڑی تھی۔ مگر اسی جھونپڑی سے صرف تیس سال میں انہوں نے نقشہ جہاں پر ایک عروس البلاد کھڑا کرکے پوری دنیا میں اس کا ڈنکا بجوا دیا۔ اور بیٹے ہم وہ بدنصیب نسل ہیں جس نے الطاف بھائی کی باتوں میں آکر داداجی کا شہر اجاڑ دیا۔ مگر تم نے یہ غلطی نہیں دہرانی۔ تم نے داداجی کے شہر کو پھر سے علم کی روشنی سے بھرنا ہے۔
بظاہر یہ عجیب سی بات لگتی ہے کہ کراچی کا ایک پشتو اسپیکنگ رائٹر اردو اسپیکنگ بچوں کے لئے پریشان نظر آئے۔ مگر اس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ ہجرت کرکے کراچی آنے والی مہاجر نسل کا ہم پر ذاتی احسان ہے۔ اور احسان بھی اتنا بڑا کہ ہمارا شعور اس کے مجموعی احاطے سے بھی عاجز ہے۔ ہماری تعلیم صرف مدرسے کی ہے۔ ہم اسکول کالج وغیرہ کبھی ایک دن کو بھی نہیں گئے۔ رہتے ہم عثمانیہ سوسائٹی میں تھے۔
چنانچہ ہمارے لڑکپن میں ہی مہاجر بزرگوں نے دیکھا کہ امام صاحب کا یہ لڑکا نہ تو جدید تعلیم حاصل کر رہا ہے اور نہ ہی یہ جدید دور کا کوئی خاص شعور رکھتا ہے۔ سو ان بزرگوں نے ہماری انگلی پکڑی اور ہمیں علم و آگہی کی اس پٹری پر ڈال دیا جس کا ہر اسٹیشن ہماری موجودہ شعوری ساخت کو نوازتا گیا۔ یوں ہم آج جو بھی ہیں اس نسل کے احسان سے ہیں۔ ہم مقروض ہیں ان مہاجروں کے۔ ہم چاہتے ہیں جس طرح انہوں نے ہماری انگلی پکڑی تھی اسی طرح ہم اب ان کی تیسری نسل کی انگلی پکڑیں۔
دوسری بات یہ کہ اس تباہ حال مہاجر نسل کا نقصان ہمارے ذاتی مفاد میں بھی نہیں۔ اس نسل کا اس صورتحال میں ہونا ہمارا ذاتی نقصان ہے۔ اور وہ یوں کہ ہمارے تینوں بچوں کی تعلیم وتربیت اسلام آباد کی ہے۔ یہ بچے 25 سال بعد پھر سے کراچی آبسے ہیں۔ کراچی کے چنگچی چلاتے مہاجر بچے چرس، چوری چکاری، اور اسٹریٹ کرائم جیسی لعنتوں میں بھی مبتلا ہیں۔ کراچی میں چائے خانوں کا ذوق قدیمی ہے۔ اور سب سے زیادہ نوجوان ہی اس کا لطف لیتے ہیں۔ سو ہمیں کسی چائے خانے پر ان کا اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھنا خطرے والی بات لگتی ہے۔
اب اگر ہم اپنے بچوں سے کہتے ہیں کہ ان سے دور رہو تو یہ مسئلے کا کوئی مستقل حل نہیں۔ اور اس تباہ حال مہاجر نسل سے کہیں کہ تم چائے خانے پر نہ آیا کرو تو یہ ایک نئے المیے کو جنم دے گا۔ مستقل حل یہ ہے کہ اس نسل کو سینے سے لگا کر اسے اس نقصان سے آشنا کرایا جائے جس سے یہ دوچار ہے مگر اس کا شعور نہیں رکھتی۔ اور اس نسل کو وہ راستے دکھائے جائیں جو اسے قومی تعمیر کا فعال حصہ بنا سکیں۔ مگر یہ فقط ایک رائٹر کے بس کا کام نہیں۔ اس کے لئے کمیونٹی موبلائزیشن فورس کی ضرورت ہے۔
اور یہ وہ کام ہے جو صرف جماعت اسلامی کراچی کر سکتی ہے۔ اس جماعت کو عہدوں کی دوڑ سے کچھ عرصے کے لئے خود کو باہر کرنا ہوگا۔ اس ایک فکس ٹارگٹ کے پیچھے اگر یہ جماعت پورے تسلسل کے ساتھ پڑ جائے اور طے کرلے کہ ہم نے برباد ہوجانے والے مہاجروں کی گود سے ایک نئی نسل کھڑی کرنی ہے تو اگلے سات آٹھ سال میں اس کے صرف اولین آثار نمودار ہونے پر ہی ہر عہدہ خود جماعت اسلامی کراچی کی طرف دوڑے گا۔ حافظ صاحب! عہدوں کا تعاقب چھوڑیئے، عہدوں کو اپنے تعاقب پر مجبور کیجئے۔ آپ کو تاریخ میئر کراچی کے نام سے یاد رکھے، یہ بہتر ہے یا یہ کہ تاریخ آپ کو نئی نسل کے معمار کی حیثیت اپنے صفحات پر روشن کرے؟
ہمارے نزدیک یہ کام صرف جماعت اسلامی کراچی ہی اس لئے کرسکتی ہے کہ اس کی قیادت مہاجر کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہے۔ کلچر ایک ہو تو بات کرنی آسان ہوجاتی ہے۔ افہام و تفہیم میں سہولت ہوجاتی ہے۔ وہ جو قرآن مجید نے کہا ہے کہ وجعلناکم شعوبا و قبائل لتعارفوا۔ وہ کیا ہے؟ کیا مہاجروں کا تعارف 80 کی دہائی کے آخری نصف تک یہی تھا جو آج ہے؟ ایک قوم سے اس کا بنیادی تعارف تک چھین لیا گیا اور آپ کو اس قوم سے ہوکر بھی کوئی فرق نہیں پڑتا؟ آپ کو اندازہ بھی ہے یہ کتنا بڑا المیہ ہے؟ دفع کیجئے میئر کے عہدے کو۔ خود کو مہاجر نسل کی بحالی کے لئے وقف کیجئے۔ اس نسل اور کراچی شہر کو اس کا کھویا ہوا تعارف لوٹایئے۔ لکھ کر دیتے ہیں کہ یہ کام آپ کو تاریخ میں امر کر دے گا!
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں