یہ سلسلہ ستمبر 1972 میں اُس وقت کے وفاقی وزیراطلاعات اور وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹوکے قریبی ساتھ مولانا کوثر نیازی کے اُس انکشاف سے شروع ہوا کہ نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ خان عبدالولی خان ، بلوچستان کے وزیراعلیٰ سردار عطاء اللہ خان مینگل اور بلوچستان کے وزیرخزانہ احمد نواز بگٹی نے لندن میں بنگلہ دیش کے اُس وقت کے وزیراعظم شیخ مجیب الرحمان سے ملاقات کی ہے، جس میں بلوچستان کی علیحدگی کو ہوا دے کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش رچی گئی۔
اگرچہ مجیب الرحمان اور پاکستانی رہنماؤں نے ایسی کسی بھی سازش سے انکار کیاتھا اُس کے باوجود بھی بھٹو نے فروری 1973 میں اسے ایک بہانے کے طور پر بلوچستان کی حکومت کو برطرف کرنے کیلئے استعمال کیا تھا۔
وہی لندن آج ایک بار پھر پاکستانی سیاست میں سرخیوں میں ہے کیونکہ وزیراعظم شہباز شریف لندن میں اپنے بڑے بھائی نواز شریف سے اہم ملاقاتیں کررہے ہیں تاکہ ملک کے سیاسی معاملات اور نومبر میں ہونے والی اہم تعیناتی کے حوالے سے اُن کی رہنمائی لے سکیں۔
وزیراعظم شہباز شریف جنھیں ہفتے کی صبح پاکستان کیلئے روانہ ہونا تھا انہوں نے لندن میں اپنے قیام کو بڑھادیا ہے ۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے خرابیِ صحت کے باعث لندن میں اپنا قیام بڑھایا ہے اور وہ اب اتوار یا پیر کو پاکستان واپس آئیں گے۔
لندن میں ملاقاتیں کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن اس کے پیچھے بڑے سخت حقائق ہیں ۔ سب سے پہلے کوئی بھی سیاسی رہنما چاہے وہ کسی بھی پارٹی کا ہو کسی بھی اہم قومی مسئلے پر غورو خوض کیلئے لندن میں جمع ہونا آسان سمجھتا ہے۔ سیاسی رہنما کے آپس میں گفتگو کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر لندن میں پاکستانی سیاست کے حوالے سے گفتگو کی جائے تو اُس سے سیاستدانوں کا اپنے آبائی حلقے میں عدم اعتماد ظاہر ہوتا ہے۔اگر یہ سیاسی رہنما پاکستان کے مستقبل پربات کرنے کیلئے لندن کو مناسب جگہ سمجھتے ہیں تو وہ در حقیقت ملکیت کی کمی کو ظاہر کررہے ہیں جبکہ ملک کے موجودہ آرمی چیف خود ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ مدتِ ملازمت میں توسیع نہیں لے رہے اور 27 نومبر کو عہدہ چھوڑدینگے۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان بھی نئے آرمی چیف کی تقرری میرٹ پر کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں ،وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کہا ہے کہ نئے آرمی چیف کا تقرر میرٹ پر کیا جائے گا۔ اگر ایسا ہی ہے تو دونوں رہنما اس تقرری کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کیوں کررہے ہیں؟ملکی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی کہ کبھی آرمی چیف کی تقرری کو اس حد تک سیاسی رنگ دیاگیا ہو۔
اس وقت سیاستدانوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیئے کیونکہ افراتفری اور سیاسی انارکی پاکستان اور اس کے شہریوں کے لیے مزید مسائل پیدا کرے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں