لانگ مارچ،کورونااوراستعفوں کاشور

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ( پی ڈی ایم)بظاہر لانگ مارچ کی تیاریاں کرتی نظر آرہی ہے، تاہم اندرون خانہ لانگ مارچ اور اسمبلیوں سے استعفے دینے کے معاملے پر پی ڈی ایم کی جماعتوں میں شدید اختلافات موجود ہیں۔

خصوصاً پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم اجلاسوں میں ڈھکے چھپے لفظوں میں استعفوں کی مخالفت کی ہے، پیپلز پارٹی استعفے دینے سے کھل کر انکار بھی نہیں کر رہی اور استعفے دینے کو تیار بھی نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی لانگ مارچ سے بھی فرار چاہتی ہے ، اس حوالے سے ذرائع کہتے ہیں کہ ملک میں کورونا وباء کے دوبارہ سر اٹھانے میں اتنی شدت نہیں ہے مگر وفاق اور سندھ حکومت کورونا اسمارٹ لاک ڈاؤن سے اجتماع سے اجتناب کی ہدایت دیتے نظر آتے ہیں۔کورونا وائرس کا پھیلاؤ اس کی اجازت نہیں دے گا کہ اب کوئی عوامی اجتماع کیا جائے، جبکہ لانگ مارچ میں ہزاروں افراد ایک جگہ جمع ہوں گے ، ایسے میں کسی رکاوٹ کے بغیر کورونا کا پھیلنا بہت آسان ہوگا۔

اب حکومت اور اپوزیشن کی وہ جماعتیں جو لانگ مارچ کے خلاف ہیں وہ با آسانی پی ڈی ایم لانگ مارچ سےکورونا وائرس کے پیچھے چھپ سکتی ہیں۔ ویسے بھی سیاسی ذرائع بتا چکے ہیں کہ ہر ممکن کوشش کے باوجود لانگ مارچ عید سے قبل مشکل ہوگا ۔ابھی یہ بات پیپلز پارٹی نے نہیں کہی ہے مگر آئندہ چند روز میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کو وجہ ظاہر کر کے پیپلز پارٹی یہ بات کر سکتی ہے کہ لانگ مارچ کو فی الحال عید تک موخر کر دیا جائے، اور عوامی اجتماع سے گریز کیا جائے۔

سوال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کو اسمبلیوں سے مستعفی ہونے اور لانگ مارچ سے کیا حاصل ہوگا، کیوں کہ پیپلز پارٹی کو سندھ حکومت ملی ہوئی ہے، اگر مستعفی ہونے سے سندھ حکومت چھن گئی تو بڑا سیاسی نقصان ہو سکتا ہے،جبکہ استعفو ں کے بعداگراسٹیبلشمنٹ نے حکومت کو مشورہ دیا کہ نظام کو ختم کرنے کے بجائے ضمنی انتخابات کرا دیے جائیں تو پیپلز پارٹی شاید پھر اتنی نشستیں حاصل نہ کر سکے ، یا اس کی قیادت کو مختلف مقدمات کا سنجیدگی سے سامنا کرنا ہوگا جن میں اسے رعایت مل رہی ہے۔ ابھی حکومت کے خلاف وہ ماحول تیار نہیں ہوا جس میں اپوزیشن کو لانگ مارچ کے مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکیں۔

یوں تو جب ایک سے زائد سیاسی جماعتوں کا اتحاد قائم ہوتا ہے تو مفادات کا ٹکراؤ معمول کی بات بن جاتی ہے اور اختلافات ہوتے رہتے ہیں مگر یہاں تو 11 سیاسی جماعتوں نے اتحاد کر کے پی ڈی ایم قائم کی ہے ، ان جماعتوں کے درمیان پہلے ہی اختلافات ہیں خصوصاََ نظریاتی اختلافات کے باعث ان سیاسی جماعتوں کاایک ساتھ چلنا پہلے ہی مشکل ہے۔ کیونکہ ان میں سے بعض قوم پرست جماعتیں ہیں تو بعض مذہبی سیاسی جماعتیں ہیں، ان مذہبی جماعتوں میں بھی مختلف فرقوں سےتعلق رکھنے والی سیاسی جماعتیں ہیں،ان کے اتحاد کا مقصد ایک ہی ہے کہ جلد تحریک انصاف کی حکومت کو گھر بھیج دیا جائے مگر ان کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ سیاسی جماعتوں میں واضح اختلافات پائے جاتے ہیں۔

کبھی لانگ مارچ کی حتمی تاریخ کے تعین پر اختلاف ہوتا ہے تو کبھی لانگ مارچ کے مقام، اختتام،اور دھرنا دینے یا نہ دینے پر اختلافات نظر آتے ہیں،تاہم پیپلز پارٹی اس صورتحال میں بہت خوبصورتی سے کھیل رہی ہے ، نہ لانگ مارچ کرنے سے انکار کرتی ہے نہ احتجاجی سیاست سے ظاہر ی فرار اختیار کرتی ہے۔ تمام تر صورتحال میں مسلم لیگ (ن) اور پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان کی تقریباََ ایک ہی رائے ہے کہ جلد استعفے جمع کر لیے جائیں اور لانگ مارچ کیا جائے جس کی وجوہات سے سب ہی واقف ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور وہ مقدمات کا سامنا کرتے ہوئے شدید مشکلات کا شکار ہیں، دوسری طرف جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ہیں جو عام انتخابات میں اپنی نشست سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
جمعیت علمائے اسلام اور ن لیگ دونوں ہی عام انتخابات 2018ء میں نقصان میں رہے اور ان کا تحریک انصاف کے خلاف احتجاجی تحریک چلانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں، مگر پیپلز پارٹی تو پہلے بھی پنجاب میں نشستیں جیتنے میں ناکام رہی ہے تاہم سندھ میں پی پی پی نے پہلے سے زیادہ نشستیں جیت لی ہیں اس لیے پیپلز پارٹی کی اس اتحاد میں شمولیت ہی حیرت انگیز ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اپنے خلاف کرپشن کے مقدمات کے حوالے سے حکومت پر دباؤ قائم رکھنے کے لیے پیپلز پارٹی پی ڈی ایم کا حصہ بنی ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے بیانات پی ڈی ایم کی قیادت سےمتضاد نظر آتے ہیں۔

پہلے پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہیں اورجب پی ڈی ایم کی قیادت خصوصاََ مسلم لیگ ن اور مولانا فضل الرحمان لانگ مارچ کی تاریخوں پر بات کرتے ہیں تو ایسے میں چیئر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے یہ بیان آتا ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت کو ہٹانے کے لیے آئینی، قانونی اور جمہوری طریقہ اپناتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تجویز پی ڈی ایم کی قیادت کے سامنے پیش کرے گی، حالانکہ اپوزیشن کے پاس عدم اعتماد کے لیےاراکین کی تعداد مکمل نہیں تھی۔

پی پی پی کی جانب سے بیان آتے ہی وزیر اعظم عمران خان نے اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لے کر عدم اعتماد کی تحریک لانے کی پی ڈی ایم جماعتوں کی خواہش دفن کردی۔دراصل پیپلز پارٹی اس نظام کے خاتمے کی خواہش نہیں رکھتی ورنہ جس انداز میں اپوزیشن کی احتجاجی تحریک شروع ہوئی تھی وہ تحریک انصاف کی حکومت کیلئے پریشانی کا باعث بن چکی تھی، اس وقت اگر لانگ مارچ اور استعفوں کے فیصلے ہو جاتے تو ممکن تھا کہ اپوزیشن کو بڑی کامیابی مل جاتی۔

حکومت قربان کرنا بہت مشکل کام ہے۔ ایک طرف وزیر اعظم یہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی حکومت قربان کر سکتے ہیں مگر کرپٹ سیاستدانوں کو نہیں چھوڑیں گے تاہم پیپلز پارٹی نے بھی اپنی سندھ حکومت قربان کرنے کا عندیہ دیا تھا مگر اس نے اپنی حکمت عملی سے اب تک اپنی سندھ حکومت کو بچائے رکھا ہے اور آئندہ بھی وہ اس میں کامیاب رہے گی۔مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان کو یہ پیش کش کر دی ہے کہ اگر وہ چاہیں تو مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی کے استعفے ان کے حوالے کیے جا سکتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی کی جانب سے اس حوالے سے کوئی جواب یا رد عمل نہیں آیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی نہ تو استعفے دے گی نہ ہی لانگ مارچ کی طرف جائے گی ، اور اگر پی ڈی ایم پیپلز پارٹی کے بغیر احتجاجی سیاست کی طرف جاتی ہے تو یہ سوالات جنم لے سکتے ہیں کہ لانگ مارچ کتنا موثر ہوگا؟ لانگ مارچ ہو بھی سکے گا یا اختلافات کے باعث اسے مؤخر کرنا پڑے گا۔

Related Posts