ریل گاڑیوں کی ویڈیو بنانا جرم! نون لیگی وزیر ریلوے اپنی نااہلی چھپانے کی کوششوں میں مصروف

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان ریلوے نے اپنہ حدود میں غیر مجاز ویڈیو بنانے، تصاویر لینے اور خبری سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے اس عمل کو قابلِ سزا قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوشل میڈیا پر ٹرین حادثات، پٹری سے اترنے اور بوگیاں الگ ہونے کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد ادارے کو شدید تنقید کا سامنا تھا۔

ریلوے حکام کی جانب سے تمام ڈویژنز کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ریلوے کی حدود میں کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ پر مکمل پابندی ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ اسٹیشنز اور دیگر تنصیبات میں بغیر پیشگی اجازت داخلے پر بھی روک لگا دی گئی ہے۔

پس منظر اور وجوہات

گزشتہ چند ماہ کے دوران ریلوے کو متعدد واقعات کے باعث عوامی دباؤ کا سامنا رہا جن میں ٹرینوں کا پٹری سے اترنا اور سفر کے دوران بوگیوں کا الگ ہو جانا شامل ہے۔ ان واقعات کی ویڈیوز بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا پر پھیلیں جس کے بعد ادارے کی کارکردگی پر سوالات اٹھے۔

 

ہدایات اور سیکیورٹی اقدامات

نئے قواعد کے تحت ریلوے اسٹیشنز، پلیٹ فارمز اور یارڈز کو حساس مقامات قرار دیا گیا ہے۔ اب پلیٹ فارم پر داخلہ صرف درست ٹکٹ یا پلیٹ فارم ٹکٹ رکھنے والوں کو ہی دیا جائے گا۔ انجن، بریک وینز اور آپریشنل حصوں تک رسائی صرف مجاز عملے تک محدود کر دی گئی ہے جبکہ ریلوے یارڈز اور پٹریوں کو عبور کرنا بھی جرم قرار دے دیا گیا ہے۔

یہ پابندیاں صحافیوں، وی لاگرز، بلاگرز اور عام شہریوں سب پر لاگو ہوں گی۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تحریری اجازت کے بغیر کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا اس کی اشاعت سختی سے ممنوع ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

اجازت کا نیا نظام

ریلوے حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی سرگرمی کے لیے پہلے باقاعدہ اجازت حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ ان اقدامات کو قومی اثاثوں کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے جبکہ اسٹیشنز پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن میں عوام اور سوشل میڈیا صارفین کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ریلوے کے قواعد پر عمل کریں کیونکہ نئی ہدایات کی خلاف ورزی کو باقاعدہ جرم قرار دیا جا چکا ہے۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ حالیہ مہینوں میں پیش آنے والے مختلف حادثات اور ان سے متعلق وائرل ویڈیوز کے بعد پاکستان ریلوے شدید تنقید کی زد میں رہا ہے۔ مسافروں اور اپوزیشن جماعتوں نے ان واقعات کو مبینہ غفلت کا نتیجہ قرار دیا ہے جس سے ادارے پر دباؤ میں اضافہ ہوا۔

پاکستان ریلوے اس وقت وفاقی وزیر برائے ریلوے حنیف عباسی کے زیرِ انتظام ہے جن کی 2024 کے عام انتخابات میں کامیابی کو مخالف جماعتوں نے متنازع قرار دیا تھا تاہم نئے قوانین کے تحت میڈیا کو اجازت حاصل کرنے کا طریقہ کار اور وقت کے بارے میں تاحال کوئی واضح تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

Related Posts