سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی قیادت میں چلنے والی صوبائی حکومت ایک نئے مبینہ کرپشن اسکینڈل کی زد میں آتی دکھائی دے رہی ہے جس نے پولیس کے اندرونی حلقوں اور صحافتی برادری میں ہلچل مچا دی ہے۔
چھاپے اور ابتدائی کارروائی
اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے صحافی شہزاد پراچہ کے مطابق کچھ روز قبل سندھ کے ایک ضلع میں ایک سینئر پولیس افسر کی سرکاری رہائش گاہ پر خفیہ اداروں کی معلومات کی بنیاد پر چھاپہ مارا گیا۔ اس کارروائی کے دوران پولیس افسر کے ذاتی اکاؤنٹنٹ اور ایک مقامی فیکٹری مالک کو حراست میں لے لیا گیا۔
سندھ پولیس اور صحافتی حلقوں میں پیپلز پارٹی کی سندھ میں گورنس کے حوالے ایک نیا مبینہ سکینڈل زیر بحث ہے۔ جس میں سندھ کے ایک ضلع کے سنئیر پولیس افسر کے سرکاری گھر پر کچھ دن پہلے مبینہ طور پر کچھ اداروں نے مخبری پر چھاپہ مارا۔ اور وہاں سے پولیس افسر کے اکاؤنٹنٹ سمیت ایک اور فیکٹری… https://t.co/uliHDlS5Ed
— Shahzad Paracha (@shahzadparcha) April 25, 2026
مالی بے ضابطگیوں کے انکشافات
ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران بھاری نقد رقم بھی برآمد ہوئی جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اندر مبینہ مالی بدعنوانی کے نیٹ ورک پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ یہ صورتحال پولیس کے اعلیٰ ڈھانچے میں ممکنہ کرپشن کی نشاندہی کرتی ہے۔
تحقیقات اور اندرونی دباؤ
شہزاد پراچہ نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ زیر حراست اکاؤنٹنٹ نے تفتیش کاروں سے تعاون شروع کر دیا ہے اور اس نے ایسے شواہد فراہم کیے ہیں جو مبینہ طور پر متعدد پولیس افسران کو مالی بدعنوانی سے جوڑتے ہیں۔ ان انکشافات کے بعد کئی افراد کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ گرفتاری یا قانونی کارروائی کے خوف سے نامعلوم مقامات پر منتقل ہو گئے ہیں۔
سندھ کے امور پر گہری نظر رکھنے والی اہم شخصیت کے مطابق صدر مملکت ان دنوں مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں ایک طرف ان کا سندھ کے رکن اسمبلی کے ساتھ مبینہ طور پر جھگڑا چل رہا ہے اور وہ اسی لیے کچھ دنوں سے اندرون سندھ میں پائے گئے ہیں دوسری طرف سے ان کی صحت بارے متضاد خبریں زیر گردش ہیں…
— Shahzad Paracha (@shahzadparcha) April 24, 2026
سیاسی پس منظر
یہ سارا معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پیپلز پارٹی سندھ میں اپنی طویل سیاسی گرفت کے باعث پہلے ہی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ صورتحال پارٹی کے لیے سیاسی طور پر انتہائی حساس مرحلہ ثابت ہو سکتی ہے۔
صدر پاکستان سے جڑا پہلو
مزید پیچیدگی اس وقت سامنے آئی جب شہزاد پراچہ نے دعویٰ کیا کہ صدر پاکستان جوکہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین ہیں اس وقت متعدد دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ وہ سندھ کے ایک صوبائی اسمبلی رکن کے ساتھ عوامی تنازع میں الجھے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے انہیں طویل عرصے تک صوبے میں موجود رہنا پڑ رہا ہے۔
اسی دوران ان کی صحت سے متعلق بھی متضاد خبریں سامنے آئی ہیں۔ پارٹی رہنما ان افواہوں کی تردید کر رہے ہیں تاہم قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کا اسلام آباد میں مسلسل قیام اب غیر مستحکم ہوتا جا رہا ہے۔
جیسے جیسے یہ معاملہ آگے بڑھ رہا ہے سندھ کے سیاسی مبصرین اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ پیپلز پارٹی اس مبینہ کرپشن کیس اور اندرونی سیاسی دباؤ کے اس مجموعے سے کس طرح نمٹے گی اور صورتحال کو کس حد تک سنبھال پائے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








