ملالہ یوسف زئی، اکیسویں صدی کی مقبول ترین نوجوان

تازہ ترین

تازہ ترین

اقوام متحدہ نے سوات کی گل مکئی ملالہ یوسف زئی کو اکیسویں کی مقبول ترین نوجوان قرار دیدیا ہے، ملالہ یوسف زئی نے اب تک ایک غیر معمولی زندگی گزاری ہے۔ چھوٹی عمر ہی سے ملالہ لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں بولنے کے لئے مشہور تھی۔

جب طالبان نے وادی سوات کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد  کردی ہے اس وقت ملالہ اپنے بلاگ کے ذریعے طالبان کے مظالم کے خلاف بات کرتی رہی لیکن جب اس خطے میں اپنی زندگی کے بارے میں ایک بین الاقوامی دستاویزی فلم میں اس کی نمائش کی گئی تو اس کی شہرت اس وقت زیادہ ہوگئی۔

طالبات دہشت گردوں کیخلاف سوات میں فوجی آپریشن کے بعد دہشت گردوں نے نوعمر ملالہ سے بدلہ لینے کی ٹھان لی اوراکتوبر 2012 کو ملالہ کو اسکول سے گھر جاتے ہوئے طالبان دہشت گردوں نے گولی مار دی ۔ وہ گولی سے ملالہ سر میں لگی تھی لیکن معجزانہ طور پر بچ گئی اور صحت یاب ہوگئی۔ ملالہ کونازک حالت میں برطانیہ منتقل کیا گیا ۔

ایک نوعمر نہتی لڑکی پرحملے کوپوری دنیا کے میڈیا میں بھرپور کوریج دی گئی اورپوری دنیا نے اس حملے کی شدید مذمت کی تاہم اب یہ دن ملالہ ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ ہر لڑکی کے اسکول جانے کے حق اور لڑکی کی تعلیم کو ایک اولین ترجیح بنائے۔ جیسا کہ اس نے کہا تھا کہ صرف ایک بچہ ، ایک استاد ، ایک کتاب اور ایک قلم ہی دنیا کو بدل سکتا ہے۔ آج ہزاروں لڑکیاں ملالہ فنڈ کے تحت ترقی پذیر ممالک میں تعلیم حاصل کررہی ہیں۔

دہشت گردوں کے حملے کے بعد صحت یاب ہونے کے بعد ملالہ کے عزم میں مزید پختگی دیکھنے میں آئی اور آج ملالہ عالمی رہنمائوں اور دنیا بھر میں امن کیلئے کام کرنے والی شخصیات کے شانہ بشانہ دکھائی دیتی ہے، نوجوان ملالہ ٹی وی مباحثوں اور عالمی پلیٹ فارمز پر آج بھی لڑکیوں کی تعلیم کا مقدمہ پوری شدت کیساتھ لڑتی دکھائی دیتی ہے۔

ملالہ کو  2017میں لڑکیوں کی تعلیم کے ساتھ اقوام متحدہ کے امن کی سفیرکا اعزاز دیا گیا جبکہ ملالہ کو 2004 میں امن کا نوبل انعام اور دیگر اہم ایوارڈز اور اعزازت سے بھی نوازا جاچکا ہے۔

ملالہ یوسف زئی پر حملے کے بعد پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم پرپابندیوں کے معاملے نے پھر سراٹھا یا تاہم ملالہ یوسف زئی کے عزم وہمت کی وجہ سے پاکستان میں لڑکیوں کو تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں لڑکیوں کو بھی تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کئے جائیں  اور لڑکیوں کی تعلیم پر عائد بے جا پابندیوں کو ختم کرکے ان کو برابر کے حقوق دیئے جائیں۔

Related Posts