پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض نے بحریہ ٹاؤن کی قانونی مشکلات کے تناظر میں مذاکرات اور باعزت حل کی پرزور اپیل کی ہے۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی جائیدادوں کی مجوزہ نیلامی کے خلاف دائر درخواستوں پر اپنا فیصلہ محفوظ کیا۔ یہ جائیدادیں 190 ملین پاؤنڈز کے مقدمے میں طے پانے والے معاہدے کے تحت منسلک کی گئی تھیں۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض نے 190 ملین پاؤنڈز کے مقدمے میں معاہدہ کیا تھا، لیکن وہ متفقہ رقم ادا کرنے میں ناکام رہے۔ نتیجتاً نیب نے متعدد جائیدادوں کی تفصیلات طلب کیں جو نیب آرڈیننس 1999 کے سیکشن 33E کے تحت نیلامی کے ذریعے وصول کی جانی تھیں۔
ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں ملک ریاض نے کہاکہ میں دل کی گہرائیوں سے ایک آخری اپیل کرتا ہوں کہ ہمیں سنجیدہ مذاکرات اور باعزت حل کی طرف واپس آنے کا موقع دیا جائے۔ ہم یقین دلاتے ہیں کہ ہم کسی بھی ثالثی میں حصہ لیں گے اور اس کے فیصلے کو سو فیصد نافذ کریں گے۔
— Malik Riaz Hussain (@MalikRiaz_) August 5, 2025
انہوں نے مزید کہاکہ اس موقع پر میں یہ بھی یقین دلاتا ہوں کہ اگر ثالثی کا فیصلہ ہم سے رقم کی ادائیگی کا تقاضا کرتا ہے تو ہم اس کی ادائیگی کو یقینی بنائیں گے۔
ملک ریاض نے کہا کہ انہیں پاکستان کے اداروں پر بھروسہ ہے کہ وہ انصاف، حکمت اور تدبر کے ساتھ عمل کریں گے اور اس مشکل وقت سے نکلنے میں مثبت کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بحریہ ٹاؤن کے ملک بھر میں آپریشنز شدید طور پر مفلوج ہو چکے ہیں۔ ہمارا کیش فلو مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، روزمرہ کی خدمات فراہم کرنا ناممکن ہو گیا ہے، ہم اپنے دسیوں ہزار عملے کی تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کر پا رہے اور صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ ہمیں پاکستان بھر میں بحریہ ٹاؤن کی تمام سرگرمیاں مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہم یقینی طور پر اس آخری قدم سے ایک قدم پیچھے ہیں لیکن زمینی حالات ہر لمحہ خراب ہوتے جا رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








