پنجاب کے سیلاب زدہ علاقے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایک منفرد منظر دیکھنے کو ملا جب ایک نوجوان اپنی نئی نویلی دلہن کو کشتی کے ذریعے گھر لے گیا۔
کالیرا اڈہ سے خان دا چک تک دلہن کو رخصت کیا گیا اور پھر دلہا دلہن کو کشتی کے ذریعے ان کے نئے گھر پہنچایا گیا۔
اس موقع پر دلہا اور دلہن نے لائف جیکٹس پہن رکھی تھیں جبکہ ریسکیو اہلکاروں نے انہیں پانی میں ڈوبے دیہات کے درمیان سے گزارا۔ یہ انوکھا سفر اس سنگین صورتحال کی عکاسی کرتا ہے جس کا سامنا پنجاب کے عوام کر رہے ہیں۔
دریائے ستلج میں پانی کی سطح بلند ہونے اور بھارت کی جانب سے مزید پانی چھوڑے جانے کے بعد پنجاب کے کئی اضلاع میں سیلاب نے تباہی مچادی ہے۔ حکام کے مطابق حریکے لوئر اور فیروز پور لوئر کے مقامات پر سیلابی صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نواحی میں
جب زمینی راستے سیلابی پانی میں ڈوب گئے تو ریسکیو 1122 کے بہادر اہلکاروں نے ڈھول کی تھاپ پر اپنی کشتیوں میں باراتیوں کا روپ دھار لیا
ڈھول کی تھاپ پر گونجتے شادی کے گیت بچوں کی ہنسی اور بزرگوں کے چہروں پر اطمینان نے اس منظر کو یادگار بنا دیا pic.twitter.com/AiWW4hMRlT— Muzamil (@khaak_zaada11) September 8, 2025
قصور کے گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پورے گاؤں زیرِ آب آچکے ہیں اور ٹھہرا ہوا پانی بیماریوں کے پھیلاؤ کے خدشات پیدا کر رہا ہے۔
وہاڑی، بورے والا اور میلسی میں 90 سے زائد دیہات ڈوب گئے ہیں جہاں تقریباً 80 ہزار افراد بے گھر اور 60 ایکڑ زرعی اراضی مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔
اسی طرح بہاولپور کی تحصیل خیرپور ٹامیوالی میں ہزاروں ایکڑ زرعی زمین زیرِ آب آچکی ہے جبکہ عارفوالا میں کم از کم 23 دیہات اور 26 ہزار ایکڑ سے زائد فصلیں مکمل طور پر برباد ہوگئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف لاکھوں افراد کی زندگیوں پر براہِ راست اثر ڈال رہی ہے بلکہ خطے کی زرعی معیشت کے لیے بھی ایک بڑا المیہ ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








