خواجہ سراؤں نے ہنی ٹریپ کا نشانہ بننے والے شہری پر تشدد کرکے باتھ روم میں بند کردیا، جس کے بعد پولیس نے بھی لوٹ مار کی۔ واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقے کوٹ لکھپت میں شہریوں کو جھانسہ دے کر لوٹنے کے الزام میں 4 پولیس اہلکاروں اور خواجہ سراؤں سمیت مجموعی طور پر 7 افراد کو گرفتار کیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ کوٹ لکھپت سے شہریوں کو مختلف بہانوں سے جال میں پھنسانے والے گروہ کو حراست میں لیاگیا۔
گرفتار افراد میں پولیس کے 4 اہلکار بھی شامل ہیں، جن پر الزام ہے کہ وہ خواجہ سراؤں کے ساتھ مل کر شہریوں کو ہراساں کرتے، انہیں دھمکاتے اور ان سے نقد رقم اور قیمتی سامان چھین لیتے تھے۔ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق مقدمہ قصور سے تعلق رکھنے والے شہری بلال کی درخواست پر درج کیا گیا۔
قصور کے شہری کی جانب سے درج کرائے گئے مقدمے میں خواجہ سراؤں کے ساتھ 4 پولیس کانسٹیبلز کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔مقدمے کے متن کے مطابق خواجہ سراؤں نے متاثرہ شہری کو دھوکے سے اپنے فلیٹ پر بلایا، جہاں دیگر ساتھیوں کے ہمراہ اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس سے 40 ہزار روپے نقدی چھین لی گئی۔
مقدمے کے متن کے مطابق ملزمان نے شہری کو ایک واش روم میں بند کر دیا اور کچھ دیر بعد 4 پولیس اہلکار بھی فلیٹ پر پہنچ گئے اور شہری کو تحویل میں لے کر قانونی کارروائی کا خوف دلایا۔ پولیس اہلکاروں نے شہری کو مزید ہراساں کیا اور اس سے 11 ہزار روپے مزید نقدی کے ساتھ شناختی کارڈ کی نقل بھی لے لی۔
شہری کی جانب سے مقدمے کے اندراج کے بعد ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام ملزمان کو تحویل میں لے کر مزید تفتیش کی جارہی ہے تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








