بنوں پولیس نے حالیہ خودکش حملے کے بعد شروع کیے گئے بڑے آپریشن میں پانچ مطلوب دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے جن میں ایک اہم کمانڈر بھی شامل ہے جسے فتح خیل پولیس چوکی حملے کا مرکزی کردار قرار دیا جا رہا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق آپریشن انتقامِ شہداء گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیا گیا۔ یہ کارروائیاں فتح خیل پولیس پوسٹ پر ہونے والے خونریز خودکش حملے کے بعد شروع کی گئیں جس میں دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی چوکی سے ٹکرا دی گئی تھی اور کم از کم 15 پولیس اہلکار شہید ہوگئے تھے۔
واقعے کے بعد ڈی آئی جی سجاد خان کی خصوصی ہدایات پر مختلف علاقوں میں سرچ اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز تیز کر دیے گئے۔
پولیس کے مطابق مارے جانے والوں میں زرگل گروپ کا اہم ٹارگٹ کلر حیات اللہ، اسد یار، نعمت اللہ، کمانڈر منصور اور ایک نامعلوم دہشت گرد شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد پولیس، سی ٹی ڈی اور عام شہریوں پر متعدد حملوں میں ملوث رہے تھے۔
خصوصی پولیس یونٹس نے جدید انٹیلی جنس معلومات اور حکمت عملی کے تحت سینئر افسران کی نگرانی میں مختلف مقامات پر کارروائیاں کیں۔ بنوں پولیس نے واضح کیا ہے کہ ضلع میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے کوئی جگہ نہیں چھوڑی جائے گی اور مکمل امن کی بحالی تک آپریشنز جاری رہیں گے۔
دوسری جانب امن کمیٹی نے بھی بنوں پولیس لائنز میں ہونے والے اجلاس کے دوران آپریشن انتقامِ شہداء کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے دہشتگردوں کے خلاف بھرپور کارروائی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
امن کمیٹی کے صدر حضرت اللہ نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دی جائیں گی اور امن کے قیام کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی تعاون کے بغیر دیرپا امن ممکن نہیں جبکہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔
کمیٹی نے یہ بھی اعلان کیا کہ دہشت گردوں کے زیر استعمال مبینہ حجرے اور مکانات واپس لیے جائیں گے جبکہ مشتبہ افراد کو اپنی پوزیشن واضح کرنا ہوگی۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ امن کمیٹی غیر سیاسی حیثیت میں کام جاری رکھے گی اور شہری پولیس سے متعلق شکایات فوری طور پر درج کرا سکیں گے۔
یاد رہے کہ بنوں میں گزشتہ کئی ماہ کے دوران دہشت گردی اور سیکیورٹی کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں عام شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد مختلف علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشنز کا سلسلہ مزید تیز کر دیا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








