بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کی شکایت پر کئی مسلمان پروفیسر عہدوں سے فارغ

تازہ ترین

تازہ ترین

بھارت میں ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس سے منسلک اے بی وی پی کی شکایت پر کئی مسلمان پروفیسرز کو عہدوں سے فارغ کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ مدھیہ پردیش کے ضلع اندور میں ایک سرکاری لاء کالج میں پیش آیا جہاں 6 پروفیسرز کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا گیا۔ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے مسلمان پروفیسرز کو الزامات کا نشانہ بنایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:

ڈرائیور کو چلتی بس میں دل کا دورہ، بس حادثے سے 2 افراد ہلاک

 

مسلمان پروفیسرز پر مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینے سمیت کئی بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے۔ اے بی وی پی نے کالج کے پرنسپل انعام الرحمان کو یادداشت بھی دی تھی۔

مسلمان پروفیسرز پر عرصۂ حیات تنگ کردیا گیا۔ کالج انتظامیہ کا کہنا ہے کہ الزامات کی زد میں آنے والے تمام پروفیسرز کو ذمہ داریوں سے عارضی طور پر فارغ کیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اے بی وی پی کو تکلیف تھی کہ کالج میں ایک خاص مذہب (اسلام) کے پیروکار زیادہ اساتذہ کو ملازمت پر کیوں بھرتی کیا گیا؟ ایک پروفیسر پر مذہبی جنونیت کو فروغ دینے کا الزام بھی لگایا گیا۔

 

 

Related Posts